انوارالعلوم (جلد 18) — Page 490
۴۹۰ دا ئیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے انوارالعلوم جلد ۱۸ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں بائیں کے لئے یمین و شمال کے الفاظ رکھے ہیں۔ولو تقول عَلَيْنَا بَعْضَ الأقاويل لأخَذْنَا مِنْهُ باليمنین کے یعنی اگر شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا تو ہم یقیناً اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے۔یہاں بھی یمین کا لفظ بولا گیا ہے غرض اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب کے سب یمین کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اس بات کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ کی مجلس میں بہت سے صحابہ بیٹھے تھے کوئی شخص آپ کے لئے کچھ دودھ لے کر آیا اور کہا يَا رَسُولَ الله ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ دودھ لے لیں۔آپ نے اُس سے دودھ لے لیا اس میں سے تھوڑا سا پینے کے بعد آپ نے دائیں بائیں دیکھا ممکن ہے کہ اس وقت سنگی رزق ہو یا آپ کو خیال آیا ہو کہ حضرت ابو بکر کو کچھ تکلیف ہے کیونکہ اُن دنوں ان کی صحت کچھ کمزور تھی ، آپ نے چاہا کہ وہ دودھ حضرت ابو بکر کو دے دیا جائے مگر حضرت ابو بکر آپ کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور دائیں طرف ایک چھوٹا سا لڑکا بیٹھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس لڑکے کو دیکھ کر فرمایا کہ حق تو دائیں طرف بیٹھنے کی وجہ سے تمہارا ہے مگر میں یہ دودھ حضرت ابو بکر کو دینا چاہتا ہوں اور وہ بائیں بیٹھے ہیں اگر تم اجازت دو تو یہ دودھ میں حضرت ابو بکر کو دے دوں۔وہ لڑکا کہنے لگا اگر حق دائیں والے کا ہے تو میں یہ تبرک نہ دوں گا۔سے یہ ایک عشقیہ رنگ ہے اُس وقت اس لڑکے کو دودھ نظر نہیں آتا تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبرک نظر آتا تھا جب اس لڑکے نے یہ کہا کہ میں یہ تبرک نہیں چھوڑتا تو آپ نے وہ دودھ اسی لڑکے کو دے دیا۔عام طور پر اتنے چھوٹے لڑکوں کو مجلس میں دُور بٹھایا جاتا تھا مگر اُس دن وہ لڑکا اتفاقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا۔اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چاہتا تھا کہ دووھ حضرت ابو بکر کو دے دیں مگر آپ نے دائیں کوملحوظ رکھا اور دودھ انہیں نہ دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاص طور پر دائیں کا خیال تھا مگر اس زمانے میں ان باتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جیسا کہ میں دعوتوں میں عرصہ سے یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بائیں طرف سے کھانا تقسیم کرنا شروع کرتے ہیں