انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 26

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۶ اسلام کا اقتصادی نظام زیادہ نفع کمانا مقصود ہوتا تو ان غلاموں کو زمینوں کی آب پاشی اور فصلوں کی کاشت اور نگرانی پر مقرر کر دیا جاتا۔سلام میں جنگی قیدیوں کے غرض اس طریق سے ایک طرف تو بنی نوع انسان کے ایک حصہ کو مساوات سے محروم کیا جاتا علاوہ غلام بنانے کی ممانعت تھا۔قرآن کریم نے ان دونوں طریقوں کو قطعاً ہو روک دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ما كان بني آن يَكُونَ لَه أَسْرَى حَتَّى يُنْخِنَ في الأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْأَخِرَةَ، وَاللهُ عزيز حَكِیڈ لا فرماتا ہے ہم نے کسی نبی کیلئے نہ پہلے یہ جائز رکھا ہے اور نہ تمہارے لئے جائز ہے کہ بغیر اس کے کہ کسی حکومت سے با قاعدہ لڑائی ہو اُن کے افراد کو غلام بنالیا جائے۔اگر کسی حکومت سے جنگ ہو اور جنگ بھی سیاسی نہیں بلکہ مذہبی تو عین میدانِ جنگ میں قیدی پکڑے جاسکتے ہیں اور اس کی ہماری طرف سے اجازت ہے لیکن تمہیں یہ حق نہیں کہ بغیر کسی مذہبی جنگ کے دوسری قوم کے افراد کو قیدی بناؤ۔یا میدانِ جنگ میں تو نہ پکڑ ولیکن بعد میں اُن کو گرفتار کر کے قیدی بنالو۔قیدی بنانا صرف اس صورت میں جائز ہے جب کسی قوم سے باقاعدہ جنگ ہے اور عین میدانِ جنگ میں دشمن قوم کے افراد کو بطور جنگی قیدی گرفتار کر لیا جائے۔گویا وہ قوم جس کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں ہوا اُس کے افراد کو پکڑنا جائز نہیں ہے۔اس طرح وہ قوم جس سے جنگ ہو اُس کے افراد کو بھی میدانِ جنگ کے علاوہ کسی جگہ سے بعد میں پکڑ نا جائز نہیں ہے۔صرف لڑائی کے دوران میں لڑنے والے سپاہیوں کو یا اُن کو جولڑنے والے سپاہیوں کی مدد کر رہے ہوں پکڑ لیا جائے تو جائز ہوگا کیونکہ اگر اُن کو چھوڑ دیا جائے تو وہ بعد میں دوسرے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں پھر فرماتا ہے تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا اے مسلمانو! کیا تم دوسرے لوگوں کی طرح یہ چاہتے ہو کہ تم غیر اقوام کے افراد کو پکڑ کر اپنی طاقت اور قوت کو بڑھا لو و الله يُرِيدُ الأخرة الله تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم دنیا کے پیچھے چلو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اُن احکام پر چلائے جو انجام کے لحاظ سے تمہارے لئے بہتر ہوں اور اگلے جہان میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کا مستحق بنانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ