انوارالعلوم (جلد 18) — Page 27
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۷ اسلام کا اقتصادی نظام کی رضا اور انجام کے خوشگوار ہونے کے لحاظ سے یہی حکم تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم سوائے جنگی قیدیوں کو جنہیں دورانِ جنگ میں گرفتار کیا گیا ہو اور کسی کو قیدی مت بناؤ گویا جنگی قیدیوں کے سوا اسلام میں کسی قسم کے قیدی بنانے جائز نہیں۔اس حکم پر شروع اسلام میں اس سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک دفعہ یمن کے لوگوں کا ایک وفد آپ کے پاس آیا اور اُس نے شکایت کی کہ اسلام سے پہلے ہم کو مسیحیوں نے بلا کسی جنگ کے یونہی زور سے غلام بنالیا تھا ور نہ ہم آزا د قبیلہ تھے ہمیں اس غلامی سے آزاد کرایا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گو یہ اسلام سے پہلے کا واقعہ ہے مگر پھر بھی میں اس کی تحقیقات کروں گا۔اگر تمہاری بات درست ثابت ہوئی تو تمہیں فوراً آزاد کرا دیا جائیگا۔لیکن اس کے برخلاف جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یورپ اپنی تجارتوں اور زراعتوں کے فروغ کے لئے انیسویں صدی کے شروع تک غلامی کو جاری رکھتا چلا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی تاریخ سے ایک غیر اسلامی غلامی کا بھی پتہ لگتا ہے مگر پھر بھی غلاموں کے ذریعہ سے ملکی طور پر تجارتی یا صنعتی ترقی کرنے کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔اسلامی تعلیم کے مطابق اب رہے جنگی قیدی۔سوان کے بارے میں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ اما منَّا بَعْدُ وَا مَا فِدَاءَ لا یعنی جب لڑائی میں جنگی قیدیوں کی رہائی تمہارے پاس قیدی آئیں تو تمہارے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آب ہمیں ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے سویا درکھو ہما را حکم یہ ہے کہ اما منا بخد یا تو احسان کر کے انہیں بلا کسی تاوان کے آزاد کر دو و راما فداء یا پھرتا وان لے کر انہیں رہا کر دو۔اِن دوصورتوں کے سوا کوئی اور صورت تمہارے لئے جائز نہیں۔بہر حال تمہارا فرض ہے کہ تم ان دو میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر لو۔یا تو یونہی احسان کر کے اُن کو رہا کر دو اور سمجھ لو کہ تمہارے اس فعل کے بدلہ میں خدا تعالیٰ تم سے خوش ہوگا اور اگر تم اقتصادی مشکلات کی وجہ سے احسان نہیں کر سکتے تو وہ تا وان جو عام طور پر حکومتیں وصول کیا کرتی ہیں وہ تاوان لے کر قیدیوں کو رہا کر دو۔لیکن چونکہ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ ایک شخص فدیہ دینے کی طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہوا ور حکومت یا اُس کے رشتہ دار بھی اُس کو چھڑانے کی کوئی کوشش نہ کریں اور اس کے