انوارالعلوم (جلد 18) — Page 17
انوار العلوم جلد ۱۸ ہوتا ہے کہ ۱۷ اسلام کا اقتصادی نظام اول اسلام کے نزدیک دنیا کی دولت سب انسانوں کی ہے۔دوسرے اصل مالک دولت کا اللہ تعالیٰ ہے اس لئے انسان کو اپنے مال کو خرچ کرنے کا گلی اختیار نہیں بلکہ مالک کے حکم کے مطابق اُسے اپنی آزادی کو محدود کرنا ہوگا۔یہ اصل اموال کی ملکیت کے بارہ میں قرآن کریم کے نزدیک ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام بتاتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت شعیب علیہ السلام کی نسبت آتا ہے کہ جب انہوں نے لوگوں سے کہا کہ دوسرے لوگوں کے حقوق غصب نہ کرو اور ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور اموال کمانے یا اس کو خرچ کرنے کے وہ طریق اختیار نہ کرو جن سے فساد ہوتا ہے تو لوگوں نے اُن سے کہا کہ اصلوتُكَ تَأمُرُكَ آن نثرُكَ مَا يَعْبُدُ اباؤنا او أن تفعل في آمَوَالِنَا مَا نَشَواء إنَّكَ لاَنْتَ الْعَلِيمُ الرَّشِيدُ A یعنی اے شعیب ! یہ کیا بات ہے کہ روپیہ ہمارا ، مال ہمارا، جائدادیں ہماری ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔جہاں چاہیں خرچ کریں اور جہاں چاہیں خرچ نہ کریں تم ان معاملات میں دخل دینے والے کون ہو۔مال تمہارا نہیں کہ تم اس کی تقسیم یا خرچ کے ذمہ دار ہو۔مال ہمارا ہے ہم اختیار رکھتے ہیں کہ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔کیا نمازیں پڑھ پڑھ کر تمہارا سر چکرا گیا ہے کہ اب ہمارے مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگ گئے ہو کہ اس طرح خرچ کرو گے تو ثواب ہوگا۔اس طرح خرچ کرو گے تو عذاب ہوگا۔ہمیں نصیحت کرنے اور سمجھانے کا یہ حق تمہیں کہاں سے حاصل ہو گیا ہے۔پھر وہ طنز کے طور پر کہتے ہیں كه إنك لانت الْعَلِيمُ الرّشید بڑا غریبوں کا ہمدرد آیا ہے تو تو بڑا حلیم اور بڑا بھلا مانس معلوم ہوتا ہے یعنی یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تم حلیم ہوا اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ تم رشید ہو مگر اب تم حلیم اور رشید بن کر ہم پر رعب جمانا چاہتے ہو ہم تمہارے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتے۔