انوارالعلوم (جلد 18) — Page 18
انوارالعلوم جلد ۱۸ Ι اسلام کا اقتصادی نظام ابتدائے آفرینش سے اموال اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم نے اموال کے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہی پہلے انبیاء کی کے متعلق ایک ہی نظریہ طرف سے پیش ہوتا چلا آیا ہے۔وہ بنی نوع انسان کو اموال کمانے اور خرچ کرنے میں آزاد نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اموال سب خدا کے ہیں اور خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف اُن کو خرچ کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔قومی ترقی کے لئے غرباء کو اُبھارنے کی ضرورت ان اصول کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ اسلام نے اپنی ابتدا میں ہی غرباء کے ابھارنے اور اُن کی مددکرنے کا اعلان کر دیا تھا۔چنانچہ وہ سورتیں جو بالکل ابتدائی زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں جب اِن کا مطالعہ کیا جائے تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان ابتدائی سورتوں میں سب سے زیادہ غرباء کو اُبھارنے ، اُن کی مدد کر نے اور اُن کو ترقی کی دوڑ میں آگے لے جانے کا ذکر آتا ہے اور مومنوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اگر قومی ترقی چاہتے ہیں ، اگر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریق یہی ہے کہ غرباء کی مدد کریں اور اُن کی تکالیف کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی دوسرے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئے تھے۔ابھی قرآن کریم نے نمازوں کی تفصیل بیان نہیں کی تھی ، ابھی قرآن کریم نے تجارت کے اصول بیان نہیں کئے تھے ، ابھی قرآن کریم نے قضاء کے احکام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کئے تھے، ابھی لین دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئے تھے، ابھی میاں بیوی کے حقوق یا راعی اور رعایا کے حقوق یا آقا اور ملازمین کے حقوق کی تفصیلات بیان نہیں ہوئی تھیں لیکن اس ابتدائی زمانہ میں قرآن نے غرباء کو اُبھارنے اور اُن کی مدد کرنے کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی بلکہ اُن کے نہ اُبھارنے اور اُن کی مدد نہ کرنے کے نتیجہ میں قوم کی تباہی کی خبر دی اور بتایا کہ وہ قوم اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن جاتی ہے جو غرباء کے حقوق کو نظر انداز کر دیتی ہے۔