انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 319

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۱۹ ہر کام کی بنیاد حق الیقین پر ہونی چاہئے یورپین قوموں کی تربیت اس لحاظ سے ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ افسرانِ بالا کی طرف سے جو کام بھی سپر د کیا جائے اسے پوری دیانت اور محنت کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور کبھی اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتا ہی کا ارتکاب نہیں کرتے بلکہ افسروں کو سکھایا جاتا ہے کہ جب تم کسی کو کوئی آرڈر دو تو پھر اُسے دُہراؤ کیونکہ بعض دفعہ آرڈر کچھ دیا جاتا ہے اور سمجھا کچھ جاتا ہے، اس کے بعد ماتحت کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جب تم کام کر چکو تو تمہارا فرض ہے کہ ہمیں اطلاع دو کہ کام ہو گیا ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے ہمارے کارکنوں کو اس بات کی عادت ہی نہیں کہ جب کوئی کام ان کے سپرد ہو تو وہ اس کے متعلق اپنے افسر کو یہ اطلاع دیں کہ کام ہو گیا ہے یا اس میں فلاں فلاں روکیں پیدا ہوگئی ہیں۔اگر کارکنوں کو اس بات کی عادت ڈلوائی جائے کہ جب کسی کام کے لئے کہا جائے تو واپس آ کر ہمیں بتانا ہوگا کہ کام ہو گیا ہے یا نہیں تو وہ نقائص پیدا نہ ہوں جو اب ہمارے کاموں میں بعض دفعہ پیدا ہو جاتے ہیں اور جن کی وجہ سے بہت کچھ اُلجھنیں واقعہ ہو جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ضروری کاغذات دفتر کے سپرد کئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ متعلقہ دفاتر میں پہنچا دیئے جائیں۔تین چار منٹ کے بعد فون کیا جاتا ہے کہ کیا وہ کاغذ بھجوا دیئے گئے ہیں؟ تو کہا جاتا ہے ابھی دریافت کر کے اطلاع دی جاتی ہے۔پھر دس منٹ کے بعد جواب آتا ہے کہ غلطی ہوگئی رجسٹر میں اور بھی بہت سی چٹھیاں اس وقت نقل ہو رہی تھیں اس لئے ان کا غذات کو بھی کلرک نے رکھ لیا اور سمجھا کہ جب اور چٹھیاں جائیں گی تو یہ بھی چلی جائے گی۔اب ہدایت دے دی گئی ہے کہ ان کا غذات کو فوراً پہنچا دیا جائے۔اگر آرڈر دینے کے بعد ہمیشہ اس کو دُہرایا جائے اور کارکن کو سمجھایا جائے کہ اسے کیا حکم دیا گیا ہے تو اس قسم کی غلطیاں کیوں واقعہ ہوں۔اسی طرح اگر کہا جائے کہ کام کرنے کے بعد ہمیں آ کر بتا نا ہے کہ کام ہوا ہے یا نہیں تب بھی یہ نقائص وا قعہ نہ ہوں اور یہ جواب نہ دینا پڑے کہ میں نے تو کہہ دیا تھا اب میں دریافت کر کے اطلاع دیتا ہوں کہ کام ہو گیا ہے یا نہیں۔غرض پہلی چیز علم الیقین ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کے بہت سے کام علم الیقین سے تعلق رکھتے ہیں مگر جب اہم کام پیش آئیں تو اس وقت علم الیقین کی بجائے عین الیقین بلکہ حق الیقین پر اپنے کاموں کی بنیاد رکھنی چاہئے۔علم الیقین کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کو ئی شخص