انوارالعلوم (جلد 18) — Page 320
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۰ ہر کام کی بنیاد حق الیقین پر ہونی چاہئے ہمیں آکر یہ خبر دے کہ میں فلاں گھر میں گیا تھا وہاں آگ جل رہی تھی۔جب وہ کہتا ہے آگ جل رہی تھی تو ہمیں اس کے ذریعہ سے ایک علم حاصل ہو جاتا ہے۔مگر یہ علم محض سماعی ہوتا ہے۔کوئی شخص ہمارے پاس آتا اور ہمیں یہ خبر پہنچا جاتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے سچائی سے کام لیا ہے یا کذب بیانی سے۔لیکن اس کے بعد جب ہم اُس مکان کی طرف جاتے اور دور سے دھواں اُٹھتے دیکھتے ہیں تو ہمارا علم عین الیقین سے بدل جاتا ہے۔یا ہم آگ کو جلتا دیکھ لیتے ہیں تب بھی عین الیقین کا مقام ہم حاصل کر لیتے ہیں لیکن اب بھی آگ کی عام تأثیرات ہم پر نہیں پڑتیں ہم صرف دور سے اس کا نظارہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔جب اس کے بعد ہم اُس آگ میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے ہیں تب ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اُس کی گرمی کیسی ہے یہ مقام حق الیقین کہلاتا ہے کہ ہم نے صرف آنکھوں سے آگ کو نہیں دیکھا بلکہ خود اُس آگ میں پڑ کر اس کی حقیقت کو پہچان لیا ہے۔اسی طرح جب کسی شخص سے ہم نے کہا کہ فلاں کام تمہارے سپرد کیا جاتا ہے اور اُس نے ہمیں آکر کہہ دیا کہ میں نے وہ کام کر دیا ہے تو کام کے لحاظ سے یہ صرف علم الیقین کا مقام ہوگا اس کے بعد اگر وہ کوئی ثبوت بہم پہنچا دیتا ہے مثلاً ہمارے پاس رسید لے آتا ہے تو ہم عین الیقین کا مقام حاصل کر لیتے ہیں پھر آخر میں جب ہمیں ہر لحاظ سے کام کے متعلق اطمینان حاصل ہو جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جو کام اس کے سپرد کیا گیا تھا وہ واقعہ میں ہو چکا ہے تو ہمیں حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے۔دنیا میں بہت سے لوگ اپنے کاموں کی بنیاد ابتدائی یقین پر رکھتے ہیں اور اس طرح کئی امور میں ٹھو کر کھاتے یا کام کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔بہر حال جسے علم الیقین ہوتا ہے اُس سے بہت زیادہ جدو جہد اُس شخص کی ہوتی ہے جسے عین الیقین حاصل ہوتا ہے اور جسے حق الیقین حاصل ہو جائے وہ تو کمال درجہ کی جد و جہد سے کام لینا شروع کر دیتا ہے۔حق الیقین سے اوپر جو مقام ہے وہ وہی ہے جو من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نه گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری میں بیان کیا گیا ہے۔اس میں کوشش کا سوال نہیں ہوتا کیونکہ انسان کسی اور کے لئے کوشش نہیں