انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 263

۲۶۳ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد انوارالعلوم جلد ۱۸ یہ امرا چھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ دین کی ضرورتیں ہم سے ایک بڑی قربانی کا مطالبہ کر رہی ہیں اگر ہم سستی اور غفلت سے کام لیں گے اور خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم سے زیادہ مجرم اور کوئی نہیں ہوگا۔ہم خدا تعالیٰ کے سامنے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اسلام جو اس وقت مُردہ ہو رہا ہے اسے اپنی کوششوں سے زندہ کریں اور اپنی تدابیر کو انتہائی کمال تک پہنچا دیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم پر بھروسہ رکھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے بہت سی تدابیر اختیار کی ہیں اور کئی سکیمیں ہیں جن کا جماعت کے سامنے اعلان کر چکا ہوں۔یہ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ان میں سے بھی بہتر تدابیر جماعت کی علمی ، تجارتی ، صنعتی اور اقتصادی ترقی کے لئے بتا سکے لیکن تمہیں اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اگر تم آسمان کی چوٹی پر بھی پہنچ جاؤ تب بھی اسلام تمہیں یہی کہتا ہے که الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه ۵ تمہاری ڈھال تمہارا امام ہے اور تمہاری تمام تر سلامتی محض اسی میں ہے کہ تم اُس کے پیچھے ہو کر جنگ کرو۔اگر تم اپنے امام کو ڈھال نہیں بناتے اور اپنی عقلی تدابیر کے ماتحت دشمن کا مقابلہ کرتے ہو تو تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیابی اسی شخص کے لئے مقدر ہے جو اسلام کی جنگ میری متابعت میں لڑے گا۔پس ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کی ذاتی رائے تجارت کے معاملہ میں مجھ سے بہتر ہو یا صنعت و حرفت کے متعلق وہ زیادہ معلومات پیش کر سکتا ہو لیکن بہر حال جو اصولی سکیم میری طرف سے پیش ہو گی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسی میں برکت پیدا کی جائے گی اور وہی اس کے منشاء اور ارادہ کے ماتحت ہوگی۔اگر تم اُس سکیم پر عمل کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر تم اُس سکیم کو نظر انداز کر کے اپنی ذاتی آراء کو مد نظر رکھو گے اور اپنے تجربہ اور ذاتی معلومات کو اپنا را ہنما بناؤ گے تو تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکو گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں ان تمام باتوں کو پوری طرح ملحوظ رکھیں گی اور کوشش کریں گی کہ اُن کا قدم ترقی کی دوڑ میں پہلے سے زیادہ تیز ہو۔میں نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کر دوں انجام خدا جانے