انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 65

انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام جاتا ہے اس لئے میں اب کچھ باتیں کمیونزم کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔کمیونزم کا دعوی ہے کہ: اول ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے۔دوم ہر ایک کو اُس کی ضرورت کے مطابق خرچ دیا جائے۔سوم باقی روپیہ حکومت کے پاس رعایا کے وکیل (TRUSTEE) کی صورت میں جمع رہے۔اُن کی بنیا د اس امر پر ہے کہ تمام انسانوں میں مساوات ہونی چاہئے کیونکہ اگر ہر شخص کام کرتا ہے تو ہر شخص مساوی بدلہ کا مستحق ہے اور کوئی شخص زائد دولت اپنے پاس رکھنے کا حقدار نہیں اور اگر کسی شخص کے پاس زائد دولت ہو تو وہ اُس سے لے لینی چاہئے۔یہ اس کا اقتصادی نظریہ ہے۔اس نظریہ کا ایک سیاسی ماحول بھی ہے مگر چونکہ میرا مضمون سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی ہے اس لئے میں اُسے نہیں چھوتا۔جہاں تک نتیجہ کا سوال ہے یہ بات بالکل درست ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو روٹی ملنی چاہئے ، ہر انسان کو کپڑا ملنا چاہئے ، ہر انسان کو رہائش کیلئے مکان ملنا چاہئے ، ہر انسان کے علاج کا سامان ہونا چاہئے ، ہر انسان کی تعلیم کی صورت ہونی چاہئے۔یعنی بنی نوع انسان کی ابتدائی حقیقی ضرورتیں بہر حال پوری ہونی چاہئیں اور کوئی شخص بھوکا یا پیا سایا نگا نہیں رہنا چاہئے۔اسی طرح کوئی شخص ایسا نہیں ہونا چاہئے جو بغیر مکان کے ہو، جس کی تعلیم کی کوئی صورت نہ ہو اور جس کے بیمار ہونے کی صورت میں اُس کے علاج کا کوئی سامان موجود نہ ہو۔پس جہاں تک اس نتیجہ کا سوال ہے اسلام کی تعلیم کو اس سے کلی طور پر اتفاق ہے۔وہ سو فیصدی اس بات پر متفق ہے کہ پبلک کا اقتصادی نظام ایسا ہی ہونا چاہئے اور اسلام کے نزدیک بھی وہی حکومت صحیح معنوں میں حکومت کہلا سکتی ہے جو ہر ایک کیلئے روٹی مہیا کرے، ہر ایک کیلئے کپڑا مہیا کرے، ہر ایک کیلئے مکان مہیا کرے، ہر ایک کی تعلیم کا انتظام کرے اور ہر ایک کے علاج کا انتظام کرے۔پس اس حد تک اسلام کمیونزم کے نظریہ سے بالکل متفق ہے گو یہ فرق ضرور ہو گا کہ اگر کوئی شخص اپنی قابلیت کا اظہار کرنا چاہے تو کمیونزم کے ماتحت وہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں انفرادی جد و جہد کا راستہ بالکل بند کر دیا گیا ہے۔