انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 64

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۴ اسلام کا اقتصادی نظام نظام جلدی مٹ گیا مگر اس میں بھی کوئی قحبہ نہیں کہ دنیا میں جتنے بڑے کام ہیں اُن میں بھی یہی قانون پایا جاتا ہے کہ وہ کئی لہروں سے اپنی بلندی کو پہنچتے ہیں۔ایک دفعہ دنیا میں وہ قائم ہو جاتے ہیں تو کچھ عرصہ کے بعد پرانے رسم و رواج کی وجہ سے مٹ جاتے ہیں مگر دماغوں میں ان کی یاد قائم رہ جاتی ہے اور ایک اچھا بیج دنیا میں بویا جاتا ہے اور ہر شریف اور منصف مزاج انسان تسلیم کرتا ہے کہ وہ چیز اچھی تھی مجھے دوبارہ اس چیز کو دنیا میں واپس لانا چاہئے۔پس گو یہ نظام ایک دفعہ مٹ گیا مگر اب اُسی نظام کو دوبارہ احمدیت دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔وہ ایک طرف حد سے زیادہ دولت کے اجتماع کو روکے گی دوسری طرف غرباء کی ترقی کے سامان کرے گی اور تیسری طرف ہر شخص کے لئے کھانے پینے کپڑے اور مکان کا انتظام کرے گی۔خلاصہ یہ کہ اسلام کا اقتصادی نظام معنی ہے :- (1) دولت جمع کرنے کے خلاف وعظ پر۔(۲) دولت حد سے زیادہ جمع کرنے کے محرکات کو روکنے پر۔(۳) جمع شدہ دولت کو جلد سے جلد بانٹ دینے یا کم کر دینے پر۔(۴) حکومت کے روپیہ کو غربا ء اور کمزوروں پر خرچ کرنے اور اُن کی ضروریات کو مہیا کرنے پر۔اور یہی نظام حقیقی اور مکمل ہے کیونکہ اس سے (1) اُخروی زندگی کیلئے سامان بہم پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔(۲) سادہ اور مفید زندگی کی عادت پڑتی ہے۔(۳) جبر کا اس میں دخل نہیں ہے۔(۴) انفرادی قابلیت کو کچلا نہیں گیا۔(۵) باوجود اس کے غرباء اور کمزوروں کے آرام اور اُن کی ترقی کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔(1) اور پھر اس سے دشمنیوں کی بنیاد بھی نہیں پڑتی۔کمیونزم اس نظام کے مقابلہ میں چونکہ کمیونزم کا نظام کھڑا کیا گیا ہے اور اس پر خاص طور پر زور دیا۔