انوارالعلوم (جلد 18) — Page 52
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۲ اسلام کا اقتصادی نظام چکے ہیں اور انہیں سزائیں بھی دی گئی ہیں مگر چونکہ یقینی نفع کی تمام صورتوں کو اسلام نے ناجائز قرار دے دیا ہے تا کہ دنیا کی دولت پر کوئی ایک طبقہ قابض نہ ہو جائے بلکہ مال تمام لوگوں میں چکر کھاتا رہے اور غرباء بھی اس سے اپنی اقتصادی حالت کو درست کرسکیں۔اسلامی حکومتوں میں یہ طریق چل نہیں سکتے۔سامان کا روک رکھنا منع ہے اسی طرح اسلام نے ایک حکم یہ بھی دیا ہے کہ تم جو مال بھی تیار کرو یا دوسروں سے خریدو اُ سے روک کر نہ رکھ لیا کرو کہ جب مال مہنگا ہو گا اور قیمت زیادہ ہوگی اُس وقت ہم اس مال کو فروخت کریں گے۔اگر ایک تاجر مال کو قیمت بڑھنے کے خیال سے روک لیتا ہے اور اُسے لوگوں کے پاس فروخت نہیں کرتا تو اسلامی نقطہ نگاہ کے ماتحت وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔اگر ایک تاجر کے پاس گندم ہے اور لوگ اپنی ضروریات کے لئے اس سے گندم خریدنا چاہتے ہیں اور وہ اِس خیال سے کہ جب گندم مہنگی ہو گی اُس وقت میں اسے فروخت کروں گا اُس گندم کو روک لیتا ہے اور خریداروں کو دینے سے انکار کر دیتا ہے تو اسلام کی تعلیم کے رو سے دہ ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ چیزوں پر کنٹرول اس زمانہ میں ہی کیا گیا ہے حالانکہ کنٹرول اسلام میں ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔انگریزوں نے تو آج اس کو اختیار کیا لیکن اسلام نے آج سے تیرہ سو سال پہلے یہ حکم دیا تھا کہ احتکار منع ہے اور احتکار کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ کسی چیز کو اس لئے روک لیا جائے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائیگی تب اُسے فروخت کیا جائے گا۔اگر کسی شخص کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ احتکار کر رہا ہے اور اسلامی حکومت قائم ہو تو وہ اُسے مجبور کرے گی کہ وہ اپنا مال فروخت کر دے اور اگر وہ خود فروخت کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو گورنمنٹ اُس کے سٹور پر قبضہ کر کے مناسب قیمت پر اُسے فروخت کر دے گی۔بہر حال کو ئی شخص اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ مال کو روک رکھے اس خیال سے کہ جب مہنگا ہو گا تب میں اسے فروخت کروں گا۔(اس میں کوئی شک نہیں کہ احتکار کے معنی غلہ کو روکنے کے ہیں لیکن تفقہ کے ماتحت جو اسلام کا ایک جز وضروری ہے اس حکم کو عام کیا جائے گا اور کسی شے کو جو عوام کے کام آنے والی ہے