انوارالعلوم (جلد 18) — Page 51
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۱ اسلام کا اقتصادی نظام فرض کرو ایک شخص کا اس تجارت پر دس لاکھ روپیہ صرف ہوا۔اُسے توقع تھی کہ مجھے نفع حاصل ہوگا۔پس اُس نے یورپین فرم کے مقابلہ کے لئے قیمت گرا کر رکھی مگر اُس کو میدان مقابلہ میں دیکھتے ہی وہ یورپین فرم لاکھ کی قیمت اس قدر گرا دے گی کہ اُس تاجر کو راس المال بچانا بھی مشکل ہو جائے گا اور آخر وہ مجبور ہو کر لاگت سے کم داموں پر اُسی یورپین فرم کو اپنا لا کھ کا سٹاک دینے پر مجبور ہو جائے گا۔اس یورپین فرم کو قیمت گرانے سے نقصان نہ ہوگا کیونکہ اپنے حریف کو شکست دے کر وہ پھر قیمت بڑھا دے گی۔اس رنگ میں وہ یورپین فرم لاکھ کی تجارت کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور کوئی اُس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرتا۔غرض جس قد رٹرسٹ ہیں وہ بنی نوع انسان کو تباہ کرنے والے ہیں اور چونکہ ٹرسٹ سسٹم میں نفع یقینی ہوتا ہے اس لئے اسلام کے مذکورہ بالا قاعدہ کے مطابق ٹرسٹ سسٹم اسلام کے رو سے نا جائز قرار دیا جائے گا۔یہی حال کا رٹل سسٹم کا ہے۔کارٹل سسٹم بھی ایک ایسی چیز ہے جو اسلامی نقطہ نگاہ سے بالکل نا جائز ہے۔ٹرسٹ سسٹم میں جہاں ایک ملک کے تاجر آپس میں سمجھوتہ کر کے تجارت کرتے ہیں وہاں کا رٹل سسٹم میں مختلف ممالک کے تاجر آپس میں اتحاد پیدا کر لیتے ہیں اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں چیز فلاں قیمت پر فروخت کرنی ہے اس سے کم میں نہیں۔ٹرسٹ سسٹم تو یہ ہے کہ ہندوستان کے تاجر آپس میں کسی امر کے متعلق سمجھوتہ کر لیں اور کارٹل سسٹم یہ ہے کہ مثلاً امریکہ اور انگلستان کے تاجر یا امریکہ، انگلستان اور جرمنی کے تاجر یا انگلستان اور ہندوستان کے تاجر آپس میں کسی تجارت کے متعلق سمجھوتہ کر لیں۔فرض کرو کیمیکلز (CHEMICALE) یعنی کیمیائی ساخت کی اشیاء کے متعلق سمجھوتہ کر لیں۔مثلاً اس زمانہ میں امریکہ ، انگلستان اور جرمنی یہ تین ممالک ہی کیمیکلز بنانے والے ہیں ان تینوں ممالک کے تاجر سمجھوتہ کر لیں کہ ہم ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کریں گے بلکہ ایک ہی قیمت پر اپنی دواؤں کو فروخت کریں گے تو اس کے نتیجہ میں دنیا مجبور ہوگی کہ اُن سے اُسی قیمت پر دوائیں خریدے۔اور جتنا نفع وہ مانگتے ہیں وہ اُن کو دے۔یہ کارٹل سسٹم اتنا خطر ناک ہے کہ اس سے حکومتیں بھی تنگ آگئی ہیں اور ابھی گزشتہ دنوں اس جرم میں اس کی طرف سے کئی تاجروں پر مقدمات چل