انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 50

انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک چیز جو دو روپے کو تجارتی اصول پر یکنی چاہئے اُس کے متعلق وہ کہہ سکتے ہیں ہم اُسے پانچ روپے میں فروخت کریں گے اور چونکہ سب کا متفقہ فیصلہ یہی ہوگا۔اس لئے لوگ مجبور ہوں گے کہ پانچ روپے میں ہی وہ چیز خرید میں کیونکہ اس سے کم قیمت میں اُن کو وہ چیز کسی اور جگہ سے مل ہی نہیں سکے گی۔وہ ایک کے پاس جائیں گے تو وہ پانچ روپے قیمت بتائے گا، دوسرے کے پاس جائیں گے تو وہ بھی پانچ روپے ہی بتا تا ہے ، تیسرے کے پاس جائیں گے تو وہ بھی پانچ روپیہ ہی قیمت بتا تا ہے غرض جس کے پاس جائیں گے وہ پانچ روپیہ ہی قیمت بتائے گا اور آخر وہ مجبور ہو جائے گا کہ وہی قیمت ادا کر کے چیز خریدے۔چھوٹے تاجروں کو اوّل تو یہ جرات ہی نہیں ہوتی کہ اُن کا مقابلہ کریں اور اگر اُن میں سے کوئی شخص وہی چیز سستے داموں پر فروخت کرنے لگے مثلاً وہ اُس کی دو روپے قیمت رکھ دے تو وہ بڑے تاجر جنہوں نے آپس میں اتحاد کیا ہوا ہوتا ہے اُس کا سارا مال اُس گری ہوئی قیمت پر خرید لیتے اور اس طرح اُس کا چند دن میں ہی دیوالہ نکال دیتے ہیں۔پس یہ ٹرسٹ سسٹم ایک نہایت ہی خطرناک چیز ہے اور دنیا کی اقتصادی حالت کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ جماعت احمدیہ کی تجارتی سکیموں کے سلسلہ میں تحریک ہوئی کہ میں لاکھ ۲۳ کی تجارت کے متعلق معلومات حاصل کروں۔لاکھ کی تجارت صرف چند لاکھ روپے کی تجارت ہے اور لاکھ صرف ہندوستان کے چند علاقوں میں تیار ہوتی ہے ریاست پٹیالہ میں بھی تیار کی جاتی ہے۔مجھے تحقیق پر معلوم ہوا کہ ایک یورپین فرم اس کی تجارت پر قابض ہے۔میں نے وجہ دریافت کی تو مجھے بتایا گیا کہ اور تاجروں کی حیثیت تو پندرہ سولہ لاکھ کی ہوتی ہے مگر اس یورپین فرم کا سرمایہ میں چالیس کروڑ روپیہ کا ہے۔پھر اُن کے پاس صرف یہی تجارت نہیں بلکہ گندم کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے، کپڑے کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے، جیوٹ کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے اسی طرح اور کئی قسم کی تجارتیں اُن کے ہاتھ میں ہیں۔اُن کے مقابلہ میں جب کوئی تاجر چند لاکھ روپیہ صرف کر کے لاکھ کی تجارت شروع کرتا ہے تو وہ یورپین فرم لاکھ کی قیمت اتنی کم کر دیتی ہے کہ جس نے نئی نئی تجارت شروع کی ہوتی ہے اُن کے مقابلہ میں ایک دن بھی نہیں ٹھہر سکتا اور نقصان اُٹھا کر کفِ افسوس ملتا ہوا گھر واپس آ جاتا ہے۔