انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 621

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۱ ایک آیت کی پر معارف تفسیر لوگ ہماری قوم اور ہمارے بھائیوں سے لڑنا اور ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! شاید آپ کا بیعت عقبہ کے اس معاہدہ کے متعلق کچھ خیال ہے جس میں ہماری طرف سے یہ شرط پیش کی گئی تھی کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو ہم اس کا دفاع کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑنا پڑا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔ آپؐ نے فرمایا ہاں ۔ سعد بن معاذ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ! اُس وقت جب کہ ہم آپ کو مدینہ لائے تھے ہمیں آپ کے بلند مقام اور مرتبہ کا علم نہیں تھا اب تو ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے اب اس معاہدے کی ہماری نظروں میں کچھ بھی حقیقت نہیں ۔ اس لئے آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور خدا کی قسم ! اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم دیں تو ہم کو د جائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا ۔ يَا رَسُولَ اللهِ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے ۔ ان حالات کی موجودگی میں کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ صحابہ کے متعلق هُم كَرِهُونَ کا لفظ آیا ہے وہ لڑائی کے متعلق ہے ہر گز نہیں بلکہ ان کو جو چیز نا پسند تھی وہ یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ تک کوئی دشمن نہ پہنچ جائے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جب جنگ بدر کے شروع ہونے سے پہلے قریش مکہ نے عمیر بن وہب کو بھیجا کہ جا کر پتہ لگائے کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کیا ہے اور وہ اندازہ لگا کر واپس گیا تو اس نے کہا اے قوم! میں تم لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ کرو۔ اُس کے الفاظ یہ تھے کہ اے معشر قریش! میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گویا اونٹنیوں کے کجاووں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کو اُٹھایا ہوا ہے اس لئے میں تم کو مشورہ دیتا ہوں کہ ان سے لڑائی نہ کرو میں نے جتنے مسلمانوں کو دیکھا ہے ان کے چہروں سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ وہ مرنے کی نیت سے آئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا چہرہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے مر جانا ہے مگر میدان سے پیچھے نہیں ہٹنا ۔ یہ سن کر لوگوں کے دلوں میں تذبذب پیدا ہو گیا اور انہوں نے چاہا کہ لڑائی کا ارادہ ترک کر دیں مگر ابو جہل کے دل میں چونکہ مسلمانوں کے خلاف سخت بغض تھا اس لئے اس نے عمر وحضرمی جو مسلمانوں کے ہاتھوں