انوارالعلوم (جلد 18) — Page 603
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۰۳ انصاف پر قائم ہو جاؤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد مرحوم بہت مد تر اور لائق آدمی تھے مگر دنیا دارانہ رنگ رکھتے تھے جب آپ جوان تھے تو آپ کے والد صاحب مرحوم کو ہمیشہ آپ کے متعلق یہ فکر رہتی تھی کہ یہ لڑ کا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کتابیں پڑھتا رہتا ہے یہ بڑا ہو کر کیا کرے گا اور کس طرح اپنی روزی کما سکے گا ؟ آپ کے والد صاحب مرحوم آپ کو کئی کا موں کی انجام دہی کے لئے بھیجتے مگر آپ چھوڑ کر چلے آتے یہاں تک کہ زمین کے مقدمات کے بارہ میں ان کو آپ کے خلاف شکایت رہتی تھی کہ وقت پر نہیں پہنچتے۔ایک دفعہ آپ کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے تو عین پیشی کے وقت آپ نے نماز شروع کر دی۔جب آپ نماز ختم کر چکے تو کسی نے آ کر کہا آپ کا مقدمہ تو آپ کی غیر حاضری کی وجہ سے خارج ہو گیا ہے آپ نے فرمایا الْحَمْدُ لِلهِ اِس سے بھی جان چھوٹی۔جب آپ گھر پہنچے تو والد صاحب مرحوم نے ڈانٹا اور کہا تم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ مقدمہ کی پیشی کے وقت عدالت میں حاضر رہو۔آپ نے فرمایا نماز مقدمہ سے زیادہ ضروری تھی ( گو مقدمہ کے متعلق میں نے سنا ہے کہ بعد میں معلوم ہوا کہ مقدمہ آپ کے حق میں ہی ہو گیا تھا ) کا ہنو وان کے دو بھائی جو سکھ تھے ان کو آپ کے ساتھ عشق تھا وہ ہمیشہ آپ کے پاس آیا کرتے تھے اور باوجو دسکھ ہونے کے وہ آپ کے بہت زیادہ معتقد تھے آپ کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں نماز پڑھا کر اندر جانے لگا تو انہی دونوں بھائیوں میں سے ایک نے مجھے روک لیا اور کہا خدا کے لئے آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو روکیں کہ وہ ہم پر ظلم نہ کریں۔میں حیران ہوا کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے آپ پر کیا ظلم کیا ہے؟ میں نے اُسے تسلی دی اور کہا کہ اگر کسی نے کوئی ایسی حرکت کی ہے تو میں اُسے سزا دوں گا تم بتاؤ کہ کس نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر پر گیا تھا اور میں نے وہاں سجدہ کرنا چاہا لیکن آپ کے آدمیوں نے روک دیا۔میں نے کہا یہ چیز تو ہمارے مذہب میں نا جائز ہے اسی لئے انہوں نے آپ کو روکا ہے۔وہ کہنے لگا آپ کے مذہب میں بیشک نا جائز ہے مگر ہمارے مذہب میں تو نا جائز نہیں۔اس سے ان کی محبت کا پتہ لگتا ہے ان بھائیوں نے خود مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ