انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 602

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۰۲ انصاف پر قائم ہو جاؤ اور کہا حضور واقعی بینگن سخت نقصان دہ چیز ہے، اس کے کھانے سے فلاں بیماری پیدا ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے فلاں مرض کے لاحق ہونے کا احتمال ہوتا ہے غرضیکہ علم طب کی رو سے بینگن کی تمام بُرائیاں بیان کر ڈالیں اور پھر راجہ سے کہا حضور دیکھئے تو اس کی شکل بھی کیسی منحوس ہے، بیل پر لٹکا ہوا یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کا منہ کالا کر کے اسے پھانسی پر لٹکا یا ہوا ہے۔جب در بار برخاست ہوا تو کسی نے اس درباری سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا ابھی کل کی بات ہے کہ تم نے بینگن کی تعریفیں کی تھیں اور آج تم اس کی بُرائیاں بیان کرتے رہے؟ درباری نے کہا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں۔اُس دن راجہ بینگن کی تعریف کر رہا تھا میں نے بھی تعریف کر دی اور آج راجہ نے اس کی بُرائی کی تو میں نے بھی اس کے تمام بُرے پہلو گنوا دیئے۔پس جب کہ راجہ کے درباری کو اس بات کا احساس تھا کہ میں راجہ کا ملازم ہوں تو کیا ایک مؤمن کو اس بات کا احساس نہ ہوگا کہ وہ خدا کا درباری ہے۔مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر کام میں یہ دیکھے کہ اس کے بارہ میں میرا خدا مجھے کیا حکم دیتا ہے اور اپنے دل میں عہد کر لے کہ جو کچھ میرا خدا مجھے کہے گا وہی کروں گا چاہے ساری دنیا مجھ سے ناراض ہو جائے کیونکہ خدا کی دوستی کے مقابلہ میں انسانوں کی دشمنی کیا حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی قوم کا کوئی لیڈر غلط راستہ اختیار کرتا ہے تو ہم اس پر تنقید کرتے ہیں کبھی ہم سکھوں کے کسی لیڈر پر اس کے کسی غلط رویہ کی وجہ سے تنقید کرتے ہیں اور کبھی ہندوؤں کے کسی لیڈر پر اور کبھی مسلمانوں کے کسی لیڈر پر۔اگر ہم کسی معاملہ میں سکھوں یا ہندوؤں کے کسی لیڈر پر نکتہ چینی کرتے ہیں تو مسلمان ہم پر خوش ہو جاتے ہیں اور ہند وسکھ ناراض ہو جاتے ہیں ، پھر ہم کسی مسلمان کی نا انصافی پر نکتہ چینی کرتے ہیں تو ہندو سکھ ہم پر خوش ہوتے ہیں اور مسلمان ناراض ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا آ رہا ہے۔کبھی یہ ہمارے مخالف ہو جاتے ہیں اور کبھی وہ پھر ہمیں ان پر تعجب بھی آتا ہے کہ جب ہم وہ بات کرتے ہیں جس کے لئے ہمارا خدا ہمیں حکم دیتا ہے تو ان کے لئے اس میں ناراضگی کا کونسا موقع ہے۔مگر ہم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کون ہم پر راضی ہوتا ہے اور کون ناراض بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے خدا کو کس طرح راضی رکھ سکتے ہیں۔