انوارالعلوم (جلد 18) — Page 601
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۰۱ انصاف پر قائم ہو جاؤ جب بھیڑیں تڑپنے لگیں تو فرشتوں نے بڑی سختی سے اُنہیں کہا کہ تم گوہ کھانے والی بھیٹر میں ہی ہو اور کیا ہو۔پھر آپ کو الہام ہوا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاءُ كُمُ یعنی اگر تم دعا نہ کرو تو اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پروا ہے پس جب انسان تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا تو وہ گوہ کھانے والی بھیڑوں سے زیادہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔سلم خدا تعالیٰ نے انسان کو عقل اور دماغ دیا ہے اور قوت متفکرہ عطا فرمائی ہے تا کہ ان سے صحیح معنوں میں کام لیکر وہ دنیا میں عدل وانصاف ، نیکی اور تقوی کو قائم کر سکے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ عدل وانصاف اور تقویٰ کی راہ ہی ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی مدد کی جاذب ہو سکتی ہے ہمیں چاہئے کہ اگر ہم ہندوؤں کو مظلوم پائیں تو انکا ساتھ دیں کیونکہ ہم ان کے بندے نہیں ہیں بلکہ ہم خدا کے بندے ہیں اس لئے ہر بات کا فیصلہ کرتے وقت ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس بارہ میں ہمارا ا خدا ہمیں کیا حکم دیتا ہے۔کہتے ہیں کسی راجہ نے بینگن کھائے جو اس کو بہت مزیدار معلوم ہوئے ، دوسرے دن اس نے دربار میں آکر بینگن کی تعریف کرنی شروع کی کہ بینگن بہت اعلیٰ قسم کی ترکاری ہے، بہت مزیدار ہے یہ سن کر ایک درباری کھڑا ہوا اس نے بینگن کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔کہا حضور ! واقعی بینگن بڑی اعلیٰ درجہ کی ترکاری ہے اس کے اندر یہ صفت ہے اور اس کے یہ خواص ہیں غرضیکہ اُس نے بینگن کے صحت والے حصہ کو جو طب میں بیان ہوا تھا بتمام و کمال بیان کر دیا اور پھر کہا حضور ! دیکھئے تو بینگن کی شکل بھی کیسی اعلیٰ ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک صوفی سیاہ لباس زیب تن کئے سر پر سبز عمامہ پہنے عبادت الہی میں مصروف ہے۔اس کے بعد راجہ نے چند دن متواتر بینگن کھائے اور چونکہ بینگن گرم ہوتا ہے اس لئے راجہ کو بواسیر کی شکایت ہوگئی اس پر راجہ نے دربار میں آکر ایک دن بینگن کی بُرائیاں بیان کرنا شروع کر دیں کہ ہم نے سمجھا تھا کہ بینگن بڑی اچھی چیز ہے مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ سخت نقصان دہ ہے اس سے بواسیر ہو۔جاتی ہے۔یہ سن کر وہی درباری جس نے دو چار روز پیشتر بینگن کی خوبیاں بیان کر کے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے تھے کھڑا ہوا اور بینگن کی بُرائیاں بیان کرنی شروع کر دیں