انوارالعلوم (جلد 18) — Page 591
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۹۱ انصاف پر قائم ہو جاؤ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ انصاف پر قائم ہو جاؤ فرموده ۱۷ رمئی ۱۹۴۷ ء بعد نمار مغرب ) قرآن کریم ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ اس میں ہر قسم کے سوال کا جواب پایا جاتا ہے کوئی پہلوانسانی سوالات اور جذبات کا ایسا نہیں جس کا جواب قرآن کریم نے نہ دیا ہو۔کل ہی میں نے جس امر کے متعلق کچھ باتیں بیان کی تھیں قرآن کریم نے بھی اس سوال کو اُٹھایا ہے اور اس کا جواب دیا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے تمام فیصلے یا تو اپنی ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں یا دوسرے کے رویہ کے مطابق اور یا پھر حقائق کے مطابق ہوتے ہیں یہ تین ہی پہلو کسی فیصلہ کے متعلق اختیار کئے جاسکتے ہیں۔یا تو انسان یہ دیکھتا ہے کہ مجھے خود کس بات میں فائدہ ہے یا انسان یہ دیکھتا ہے کہ میرے دشمن کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے یا پھر انسان یہ دیکھتا ہے کہ دشمن کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے، مجھے فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے، سچائی اور حق کیا ہے؟ ہر فیصلہ کے متعلق ان تین ہی پہلوؤں میں سے ایک پہلو اختیار کیا جاسکتا ہے اس کے سوا اور کوئی پہلو نہیں ہوسکتا۔چنانچہ قرآن کریم نے بھی اس سوال کو اُٹھایا ہے اور اس کا جواب دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْهِ عَلَى الاَ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا الله لى الله تعالیٰ فرماتا ہے اے مومنو! انسان چونکہ مختلف اغراض کے ماتحت کام کرتا ہے کبھی وہ کام کرتے وقت اپنے نفس کا فائدہ سوچتا ہے، کبھی وہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے متعلق سوچتا ہے اور کبھی اس کے مد نظر صداقت ہوتی ہے اس لئے تم اے مومنو! جب کوئی کام کرو تو تمہارے مد نظر یہ نہ ہونا چاہئے کہ تمہارا کس پہلو پر عمل کرتے ہوئے فائدہ ہے، نہ ہی تمہارے پیش نظر یہ بات ہو کہ تم ز