انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 592

۵۹۲ انوار العلوم جلد ۱۸ انصاف پر قائم ہو جاؤ دشمن کو کونسے پہلو پر عمل کرتے ہوئے نقصان پہنچا سکتے ہو بلکہ تمہارے مدنظر صرف یہ بات ہو کہ ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے كُونُوا قوامین میں قوام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جو مبالغہ پر دلالت کرتا ہے قائم نہیں فرمایا گویا مطلب یہ ہے کہ تم پورے طور پر مستعد ہو کر اور کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو جاؤ لیکن صرف اللہ تعالیٰ کے لئے۔تم یہ نہ سوچنا کہ تمہارا کس بات میں فائدہ ہے اور تمہارے دشمن کا کس بات میں نقصان ہے بلکہ تم صرف یہ دیکھنا کہ تمہارا خدا اس بارہ میں تمہیں کیا حکم دیتا ہے۔پھر فرمایا شُهَدَاء بالقسط تمہاری حالت یہ ہو کہ تم باقی تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف انصاف پر قائم ہو جاؤ اور جو بات بھی تمہارے منہ سے نکلے انصاف اور حق پر مبنی ہوممکن ہے جو بات تم انصاف اور حق کے لئے کر رہے ہو وہ تمہارے لئے نقصان دہ ہو یا دشمن کے لئے فائدہ مند ہولیکن تم ان باتوں کی مطلقاً پر واہ نہ کرو بلکہ تم مستعدی ، ہوشیاری اور دلیری کے ساتھ انصاف پر قائم ہو۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم تو عام حالات کے لئے ہے اگر دشمن زیادتی کرے اور اس کی دشمنی ، زیادتی اور شرارت اور دکھ اس حد تک پہنچ جائے کہ انسان اس کا جواب بھی دشمنی اور شرارت سے دینے کے لئے مجبور ہو جائے اور ایسا پہلو اختیار کرنا پڑ جائے جو دشمن کو اس کی شرارت کا مزا چکھانے کے لئے ضروری ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلا تَعْدِلُوا یعنی ہو سکتا ہے کہ دشمن تم پر اتنی سختی کرے، اتنا ظلم کرے اور تمہیں اتنے دکھ دے کہ اس کا ظلم تمہاری حد برداشت سے باہر ہو جائے اور تم چاہو کہ دشمن کو اس کی شرارتوں کی سزا دو لیکن تم ایک بات کو ضرور مد نظر رکھو کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل کو چھوڑ دو تمہارا کام یہی ہے کہ راغد لؤا تم لینا عدل اور انصاف سے کام لو پھر فرمایا هُو اقرب للتَّقوى تمہارا عدل سے کام تمہیں تقویٰ کے قریب کر دے گا گویا عدل اور انصاف سے کام لینا تقویٰ نہیں بلکہ صرف اقْرَبُ لِلتَّقوی کے مقام تک انسان کو لے جاسکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کسی چیز کے قریب ہو جانا اور بات ہے اور خود وہی مقام حاصل کر لینا اور چیز ہے۔تقویٰ کے قریب ہو جانے سے تقویٰ کا اصل مقام حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گوتم عدل اور انصاف سے کام