انوارالعلوم (جلد 18) — Page 584
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۸۴ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔کہ پیشتر ہر موقع پر ہم پر ظلم کرنے والوں کو سزائیں دیں کیا نَعُوذُ بِاللهِ اب وہ مر چکا ہے؟ وہ ہمارا خدا اب بھی زندہ ہے اور اپنی ساری طاقتوں کے ساتھ اب بھی موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم انصاف کا پہلو اختیار کریں گے اور اس کے باوجود ہم پر ظلم کیا جائے گا تو وہ ظالموں کا وہی حشر کرے گا جو امان اللہ کا ہوا تھا۔اگر ہم پہلے خدا پر یقین رکھتے تھے تو کیا اب چھوڑ دیں گے؟ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے وہ انصاف کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالموں کو سزا دیتا ہے وہ اب بھی اسی طرح کرے گا جس طرح اس سے پیشتر وہ ہر موقع پر ہماری نصرت اور اعانت فرماتا رہا۔اُس کی پکڑ ، اُس کی گرفت اور اُس کی بطش اب بھی شدید ہے جس طرح کہ پہلے تھی۔کیا ہم نَعُوذُ بِاللہ یہ مجھ لیں گے کہ ہمارے انصاف پر قائم ہو جانے سے وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دے گا؟ ہر گز نہیں۔احمدیت کا پودا کوئی معمولی پودا نہیں یہ اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرے گا اور مخالف حالات کے باوجود کرے گا دشمن پہلے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے مگر یہ پودا ان کی حسرت بھری نگاہوں کے سامنے بڑھتا رہا۔تاریکی کے فرزندوں نے پہلے بھی حق کو دبانے کی کوشش کی مگر حق ہمیشہ ہی اُبھرتا رہا اور اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح ہو گا۔یہ چراغ وہ نہیں جسے دشمن کی پھونکیں بجھا سکیں ، یہ درخت وہ نہیں جسے عداوت کی آندھیاں اُکھاڑ سکیں ، مخالف ہوائیں چلیں گی ، طوفان آئیں گے، مخالفت کا سمندر ٹھاٹھیں ماریگا اور لہریں اُچھالے گا مگر یہ جہاز جس کا ناخدا خود خدا ہے پار لگ کر ہی رہے گا۔امان اللہ کا واقعہ یاد دلانے سے کیا فائدہ؟ کیا تمہیں صرف امان اللہ کا ظلم ہی یا درہ گیا اور تم نے اس کے انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں تمہیں وہ واقعہ یا درہ گیا ہے مگر اس واقعہ کا نتیجہ تم بھول گئے۔کیا امان اللہ کی ذلت اور رسوائی کی کوئی مثال تمہارے پاس موجود ہے؟ تم نے وہ واقعہ یاد دلایا تھا تو تم اس کا انجام بھی دیکھتے۔جب وہ یورپ روانہ ہوا تھا تو خوداُس کے ایک درباری نے خط لکھا کہ ہماری مجالس میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ یہ جو کچھ ہماری ذلت ہوئی ہے وہ اسی ظلم کی وجہ سے ہوئی ہے جو ہم نے احمدیوں کے ساتھ کیا تھا۔امید ہے کہ اب جبکہ ہمیں سزا مل چکی ہے آپ ہمارے لئے بد دعا نہ کریں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اُس کے