انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 585

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۸۵ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔درباریوں کو یقین تھا کہ اُس کی ذلت کا سبب اس کا ظلم ہے آج وہی امان اللہ جو ایک بڑی شان و شوکت ، رعب و جلال اور دبدبہ کا مالک تھا اپنے ظلم کی وجہ سے اس حال کو پہنچ چکا ہے کہ وہ اٹلی میں بیٹھا اپنی ذلت کے دن گزار رہا ہے۔وہ کتنا ہوشیار اور چالاک بادشاہ تھا کہ اُس نے اپنی باج گزار ریاست کو آزاد بنا دیا مگر جب اس نے غریب احمد یوں پر ظلم کیا تو اس کی ساری طاقت اور قوت مٹادی گئی اور اس نے اپنے ظلم کا نتیجہ پالیا اور ایسا پایا کہ آج تک اس کی سزا بھگت رہا ہے۔ایک طالب حق اور انصاف پسند آدمی کے لئے یہی ایک نشان کافی ہے۔کاش ! لوگ اس پر غور کرتے۔شاید یہاں کوئی شخص یہ اعتراض کر دے کہ امان اللہ کے باپ نے بھی تو احمدی مروائے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے نا واقعی سے ایسا کیا تھا اور امان اللہ نے جان بوجھ کر کیونکہ ہمارے استفسار پر اس کی حکومت کی طرف سے لکھا گیا کہ بیشک احمدی مبلغ بھجوا دیئے جائیں اب وہ وحشت کا زمانہ نہیں رہا ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی لیکن جب ہمارے مبلغ وہاں پہنچے تو اُس نے اُنہیں قتل کرا دیا۔پھر یہ بھی نہیں کہ حبیب اللہ کو سزا نہیں ملی وہ بھی اس سزا سے باہر نہیں رہا کیونکہ اس کی ساری نسل تباہ ہوگئی۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف امان اللہ کا بدلہ نہیں لیا بلکہ اس بدلہ میں حبیب اللہ اور عبدالرحمن بھی شامل ہیں۔پس یہ ہے ہمارا تیسرا نقطہ نگاہ ان تینوں نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ہم نے تو اس معاملہ کو انصاف کی نظروں سے دیکھنا ہے اور انصاف کے ترازو پر تولنا ہے۔ہندوؤں کے ہاں انصاف کا یہ حال ہے کہ برا بر سو سال سے ہند و مسلمانوں کو تباہ کرتے چلے آ رہے تھے اور صرف ہندو کا نام دیکھ کر ملازمت میں رکھ لیتے رہے اور مسلمان کا نام آنے پر اُس کی درخواست کو مسترد کر دیتے رہے۔جب درخواست پر ڈلا رام کا نام لکھا ہوتا تو درخواست کو منظور کر لیا جاتا رہا اور جب درخواست پر عبدالرحمن کا نام آ جاتا تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا۔اس بات کا خیال نہ رکھا جاتا رہا کہ ڈلا رام اور عبدالرحمن میں سے کون قابل ہے۔اور کون نا قابل ہے، اور اس امر کو پیش نظر نہ رکھا جاتا رہا کہ ڈلا رام اور عبدالرحمن میں سے کون لائق ہے اور کون نالائق۔صرف ہندوانہ نام کی وجہ سے اسے رکھ لیا جاتا