انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 579

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۷۹ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔مسلمانوں کو دُکھ دیا گیا، ان کے حقوق کو تلف کیا گیا اور ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا اور ان کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا گیا جو زرخرید غلام کیسا تھ بھی کوئی انصاف پسند آقا نہیں رکھ سکتا۔کیا اب بھی وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب تھے ؟ کیا اب بھی وہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے تگ و دو نہ کرتے ؟ کیا اب بھی وہ اپنی عزت کی رکھوالی نہ کرتے ؟ اور کیا اب بھی وہ ہندوؤں کی بدترین غلامی میں اپنے آپ کو پیش کر سکتے تھے؟ مسلمانوں کو ہمیشہ با وجود لائق ہونے کے نالائق قرار دیا جاتا رہا ، ان کو با وجود اہل ہونے کے نا اہل کہا جاتا رہا اور ان کو با وجود قابل ہونے کے نا قابل کہا جاتا رہا ، ہزاروں اور لاکھوں دفعہ ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا ، لاکھوں مرتبہ ان کے احساسات کو کچلا گیا اور متعدد مرتبہ ان کی امیدوں اور اُمنگوں کا خون کیا گیا۔انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اور وہ چپ رہے، یہ سب کچھ ان پر بیتا اور وہ خاموش رہے، انہوں نے خاموشی کے ساتھ ظلم سہے اور صبر کیا، کیا اب بھی ان کے خاموش رہنے کا موقع تھا؟ یہ تھے وہ حالات جن کی وجہ سے وہ اپنا الگ اور بلا شرکت غیرے حق مانگنے پر مجبور نہیں ہوئے بلکہ مجبور کئے گئے یہ حق انہوں نے خود نہ مانگا بلکہ ان سے منگوایا گیا۔یہ علیحدگی انہوں نے خود نہ چاہی بلکہ ان کو ایسا چاہنے کے لئے مجبور کیا گیا۔اس معاملہ میں وہ بالکل معذور تھے جب انہوں نے دیکھا کہ باوجو د لیاقت رکھنے کے باوجود اہلیت کے اور باوجود قابلیت کے انہیں نالائق اور نا قابل کہا جا رہا ہے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اس نا انصافی کے انسداد کا سوائے اس کے اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ان سے بالکل علیحدہ ہو جائیں۔میں ہندوؤں سے پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان فی الواقعہ نالائق ، نا قابل اور نہ اہل تھے؟ ان کو جب کسی کام کا موقع ملا انہوں نے اسے با حسن سرانجام دیا۔مثلاً سندھ اور بنگال میں ان کو حکومت کا موقع ملا ہے انہوں نے اس کو اچھی طرح سنبھال لیا ہے اور جہاں تک حکومت کا سوال ہے ہندوؤں نے ان سے بڑھ کر کونسا تیر مارلیا ہے جو انہوں نے نہیں مارا۔مدراس، بمبئی ، یوپی اور بہار وغیرہ میں ہندوؤں کی حکومت ہے جس قسم کی گورنمنٹ ان کی ان علاقوں میں ہے اسی قسم کی گورنمنٹ سندھ اور بنگال میں بھی ہے۔اگر لڑائی جھگڑے اور فساد وغیرہ کی وجہ سے کسی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینا جائز ہے تو لڑائی تو بمبئی میں بھی ہو رہی ہے، یوپی میں بھی ہو رہی ہے اور بہار میں بھی ہو رہی ہے۔اگر نالائقی اور نا اہلی