انوارالعلوم (جلد 18) — Page 575
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۷۵ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں چاہے وہ ہمیں ماریں یاد کھ پہنچائیں فرموده ۱۶ رمئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب ) آج مجھے ایک عزیز نے بتایا کہ دلی کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ احمدی اِس وقت تو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کو وہ وقت بھول گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے بُرے سلوک کئے تھے۔جب پاکستان بن جائے گا تو ان کے ساتھ مسلمان پھر وہی سلوک کریں گے جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا اور اُس وقت احمدی کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں شامل کر لو۔کہنے والے کی اس بات کو کئی پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے اس کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب پاکستان بن جائے گا تو ہمارے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے وہی سلوک ہوگا جو آج سے کچھ عرصہ پیشتر افغانستان میں ہوا تھا اور فرض کرو ایسا ہی ہو جائے پاکستان بھی بن جائے اور ہمارے ساتھ وہی سلوک روا بھی رکھا جائے لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایک دیندار جماعت جس کی بنیاد ہی مذہب ، اخلاق اور انصاف پر ہے کیا وہ اس کے متعلق اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ میرا اس میں فائدہ ہے یا وہ اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ اس امر میں دوسرے کا حق کیا ہے؟ یقیناً وہ ایسے معاملہ میں مؤخر الذکر نقطہ نگاہ سے ہی فیصلہ کرے گی مثلاً ایک مجسٹریٹ ایسے علاقہ میں عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے جس میں اس کے بعض قریبی رشتہ دار بھی رہتے ہیں اور اس کے ان رشتہ داروں کے دوسرے لوگوں کے ساتھ تنازعات بھی ہیں اس کے سامنے ایک ایسا مقدمہ پیش ہوتا ہے جس میں اس کے رشتہ داروں کا ایک دشمن مدعی ہے اگر اس کے پاس روپیہ۔