انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 572

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۷۲ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو نہیں کرتے جب تک قسم نہ کھائی جائے۔ہمارے پاس بعض اوقات ایسے لوگ آتے رہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا فلاں کام کرا دیں۔ہم کہتے ہیں یہ کام ہم نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں آپ سب کچھ کر سکتے ہیں گویا ہم کام تو کر سکتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم نہیں کر سکتے۔اسی طرح وہ لوگ بھی غیر متمدن اور غیر مہذب تھے وہ نئے نئے آئے تھے اور اُن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، وقار، عظمت اور اعلیٰ اخلاق کا پتہ نہ تھا جب آپ نے اُن سے فرمایا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے تو انہوں نے سمجھا کہ سواری تو ہے مگر آپ انکار کر رہے ہیں اس لئے اصرار کیا کہ آپ تو بادشاہ ہیں آپ کے پاس سواریاں کیوں نہ ہوں گی۔مزید یہ کہ عرب لوگوں کی عادت ہے کہ ان کی کسی بات پر تسلی نہیں ہو سکتی جب تک قسم نہ کھائی جائے معمولی معمولی باتوں پر وہ وَ اللهِ بِاللهِ ثُمَّ تَاللهِ کہتے رہتے ہیں اس لئے ان کے سواری مانگنے کے اصرار کا ایک ہی جواب تھا کہ آپ قسم کھاتے۔چونکہ ان لوگوں نے آپ کے جواب کو غذر اور بہا نہ سمجھا تھا اس لئے آپ نے اُن کی تسلی کے لئے اور پیچھا چھڑانے کے لئے قسم کھائی وہ چلے گئے تو سواری بھی آگئی اور آپ نے دوبارہ ان کو بلا کر سواری دے دی۔پس وہ قسم اس لئے تھی کہ میرا وقت ضائع نہ کرو اور اصرار نہ کرو اور سواری آپ نے اس لئے دی کہ یہ نیکی کا موقع تھا اور آپ اُس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔پس جب کسی انسان کے دل میں نیکی کرنے کا ارادہ پیدا ہو تو اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے کیونکہ ممکن ہے وہ موقع گزر جائے اور پھر توفیق نہ مل سکے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب نیکی کا دور تم پر آئے تو اس سے فائدہ اُٹھا ؤ جب تم نیکی کے ایک دور سے فائدہ اُٹھاؤ گے تو تمہارے لئے نیکی کا اگلا دور بہت سہل ہو جائے گا۔(الفضل ۱۷ مارچ ۱۹۶۵ء) مسلم كتاب التوبة باب فضل دوام الذكر و الفكر في امور الآخرة۔۔۔۔۔۔(الخ) باج گزار: ریاست کو محصول دینے والا ، خراج گزار مطیع بخاری کتاب الایمان والنذور باب قول الله تعالى لا يؤاخذكم الله باللغو في ایمانکم