انوارالعلوم (جلد 18) — Page 561
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۱ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل کے ساتھ رہیں گے۔لیکن جب عبد الغفار خاں اور عبد القیوم خاں کا نام آ جائے تو چاہے وہ دل میں عبدالقیوم خاں کا ساتھ دینا چاہتے ہوں لیکن عبد الغفار خاں کے احسانات کے پیش نظر وہ عبدالغفار خاں کا ساتھ دیں گے اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ صرف ایک ہی سوال پر حل ہو سکتا ہے اور اس کے لئے کسی لمبی چوڑی جدوجہد کی ضرورت ہی نہیں۔اسی طرح وہ علاقے جن میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان میں بھی اگر دیانتداری کے ساتھ جھگڑوں کو نپٹانے کی کوشش کی جائے تو تمام جھگڑے مٹ سکتے ہیں۔اس غرض کیلئے اگر انتقال آبادی کی ضرورت ہو تو اس پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ اتنی سیدھی سی بات ہے کہ ایک ہل چلانے والا زمیندار بھی بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے مگر یہ مسئلہ صرف اس لئے حل نہیں ہو رہا کہ اسے نفسیاتی رنگ میں حل نہیں کیا جاتا اور اس کیلئے علمی فارمولے ڈھونڈے جارہے ہیں اور لمبی چوڑی تجاویز اس کے متعلق ہو رہی ہیں۔مجھے جو یہ الہام ہوا کہ فَإِنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حَقٌّ فَاظْهِر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ خطرات اسلام کو در پیش ہوں گے مگر ایک حد تک مسلمانوں کے حقوق انہیں ضرور مل جائیں گے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! اگر اسلام فی الواقعہ تیرا سچا مذہب ہے اور ضرور ہے تو یہ مستحق ہے اس بات کا کہ اسے تو دوسروں پر غلبہ عطا فرما۔بخارى كتاب الشروط باب الشروط في الجهاد۔۔۔۔۔الخ) ( الفضل اارجون ۱۹۴۷ء)