انوارالعلوم (جلد 18) — Page 560
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۰ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل رکھے جائیں تو یقیناً اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی جومسلم علاقہ کے ساتھ رہنے کو تیار ہوں گے۔احسان ایک ایسی شے ہے جو آدمی کی آنکھیں نیچی کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خانہ کعبہ کے طواف کے لئے تشریف لے گئے تو کفار مکہ نے خبر پاکر اپنے ایک سردار کو آپ کی طرف روانہ کیا کہ وہ جا کر کہے کہ اس سال آپ طواف کے لئے نہ آئیں۔وہ سردار آپ کے پاس پہنچا اور بات چیت کر نے لگا۔بات کرتے وقت اس نے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا یا کہ آپ اس دفعہ طواف نہ کریں اور کسی اگلے سال پر ملتوی کر دیں، ایشیاء کے لوگوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی سے بات منوانا چاہتے ہوں تو منت کے طور پر دوسرے کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں یا اپنی ڈاڑھی کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں کہ دیکھو! میں بزرگ ہوں اور قوم کا سردار ہوں میری بات مان جاؤ ، چنانچہ اس سردار نے بھی منت کے طور پر آپ کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگایا۔یہ دیکھ کر ایک صحابی آگے بڑھے اور اپنی تلوار کا ہتھہ مار کر سردار سے کہا اپنے ناپاک ہاتھ پیچھے ہٹاؤ۔سردار نے تلوار کا ہتھہ مارنے والے کو پہچان کر کہا تم وہی ہو جس پر میں نے فلاں موقع پر احسان کیا تھا یہ سن کر وہ صحابی خاموش ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔سردار نے پھر منت کے طور پر آپ کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگا یا صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سردار کے اس طرح ہاتھ لگانے پر سخت غصہ آ رہا تھا مگر اُس وقت ہمیں کوئی ایسا شخص نظر نہ آتا تھا جس پر اُس سردار کا احسان نہ ہو اور اُس وقت ہمارا دل چاہتا تھا کہ کاش! ہم میں سے کوئی ایسا شخص ہوتا جس پر اس سردار کا کوئی احسان نہ ہو۔اتنے میں ایک شخص ہم میں سے آگے بڑھا جو سر سے پاؤں تک خود اور زرہ میں لپٹا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ سردار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ہٹا لو اپنا نا پاک ہاتھ۔یہ حضرت ابوبکر تھے سردار نے جب اُن کو پہچانا تو کہا ہاں میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے ل پس جب احسان کا سوال ہو تو ووٹ ہمیشہ محسن کی طرف ہی جائے گا لیکن جب مسئلہ کا سوال ہو تو لوگ دلیری سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم فلاں طرف نہیں جانا چاہتے بلکہ فلاں طرف جانا چاہتے ہیں۔اگر سرحد کے لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ تم مسلمانوں کے ساتھ رہو گے یا ہندوؤں کے ساتھ ؟ تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ کیوں رہیں ہم تو مسلمانوں۔