انوارالعلوم (جلد 18) — Page 557
انوار العلوم جلد ۱۸ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل لئے کافی وجوہ موجود ہیں۔ہاں پنجاب کے بعض اضلاع ایسے بھی ہیں جن میں سے بعض میں ہندو اکثریت میں ہیں۔پنجاب میں لاہور کے مغرب کی طرف جتنے اضلاع ہیں ان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور لاہور کے مشرق کی طرف علاوہ گورداسپور کے پانچ تحصیلیں ایسی ہیں جن میں مسلمانوں کو قطعی اکثریت حاصل ہے اور بعض تحصیلیں ایسی ہیں کہ مسلمان ، ہندو اور سکھوں کی مجموعی تعداد سے تو زیادہ ہیں لیکن غیر مسلم آبادی میں مسلمان تھوڑے ہیں کیونکہ اچھوت اگر ہندوؤں کے ساتھ ہوں تو ہندوؤں کی اکثریت ہوگی اور اگر اچھوت مسلمانوں کے ساتھ ہوں تو اکثریت مسلمانوں کی ہوگی اس صورت میں اچھوتوں سے پوچھا جانا ضروری ہے کہ تم کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہو؟ اگر وہ کہیں کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں تو انہیں ہندوؤں کے اکثریت والے علاقہ میں بھیج دیا جائے اور اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ ملنا چاہیں تو انہیں مسلمانوں کے علاقہ میں بھیج دیا جائے۔اچھوت اس وقت شاملات دیہہ کی حیثیت میں سمجھے جا رہے ہیں اور ان کو ان کی مرضی پوچھے بغیر ہندوؤں یا مسلمانوں کی اکثریت والے علاقہ میں بھیجا جا رہا ہے حالانکہ یہ انصاف کے خلاف ہے۔کیا وجہ ہے کہ جمہوریت کا دعویٰ کیا جائے اور اچھوتوں یا عیسائیوں سے ان کی مرضی نہ پوچھی جائے۔آخر وہ کونسا قانون ہے جو اسے جائز قرار دیتا ہو کہ مسلمان خواہ ہندو، سکھ سے زیادہ ہوا سے اس لئے اقلیت قرار دے دیا جائے کہ اچھوت جن کی مرضی بالکل نہیں دریافت کی گئی سکھ ، ہندو سے ملکر انہیں مسلمانوں سے زیادہ کر دیتے ہیں حالانکہ قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ جہاں ہندو، سکھ اور مسلمانوں کی آبادی قطعی اکثریت نہ رکھتی ہو وہاں اقلیتوں سے پوچھا جائے کہ وہ کس سے ملنا چاہتی ہیں۔یہ ایسی سیدھی سادی بات ہے جس کے لئے نہ کسی انگریز مد بر کی ضرورت ہے، نہ فرانسیسی کی اور نہ جرمن سیاستدان کی ضرورت ہے اور نہ امریکن کی۔مگر حالت یہ ہے کہ دوسرے لوگ ہندوستان کے متعلق اپنی اپنی رائیں قائم کر رہے ہیں اور پوشیدہ مشورے ہورہے ہیں جیسے پُرانے زمانہ میں گھوڑوں کے سو دے ہوا کرتے تھے کہ چادر ڈال کر دو آدمی ایک دوسرے کی ہاتھ کی انگلیاں چھوتے تھے اور سئو دا پردے کے اندر ہی طے ہو جاتا تھا اس طرح ہندوستان کے متعلق بھی چادر ڈال کر پردے کے اندرسو دے ہو رہے ہیں۔ان لوگوں سے کوئی پوچھے بھلا تمہارا کیا حق ہے