انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 546

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۴۶ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر تمام مبلغ جوا فرایقہ میں کام کر رہے ہیں در حقیقت اس پیشگوئی میں شریک ہیں اور ان کے لئے یہ ایک بہت بڑی فضیلت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عمارت کی ایک اینٹ بننے کی توفیق عطا فرمائی جو افریقہ میں اس پیشگوئی کی صداقت کے سلسلہ میں تعمیر ہو رہی ہے ابھی ان علاقوں میں ہمیں اپنی تبلیغ کو وسیع کرنے کی بہت بڑی ضرورت ہے۔سیرالیون ، نائیجیریا ، اور گولڈ کوسٹ کی مجموعی آبادی تین کروڑ کے قریب ہے۔اگر تین ہزار افراد پر ہم ایک مبلغ رکھیں حالانکہ تین ہزار پر ایک مبلغ قطعا کافی نہیں ہو سکتا تب بھی دس ہزار مبلغین کی ہمیں ضرورت ہوگی ابھی تک وہاں ہمارے صرف پندرہ سولہ مبلغ ہیں سترہ کے قریب مقامی مبلغ ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مبلغین کی تعداد سو ڈیڑھ سو تک پہنچا دیں تا کہ ایک ایک، دو دو مبلغ مختلف علاقوں میں کام کرتے رہیں اور تبلیغ کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے وسیع سے وسیع تر ہو جائے۔اس موقع پر میں ایک بار پھر جماعت کے نوجوانوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم الشان کام میں حصہ لینے کے لئے جس کا قرآن کریم کی پیشگوئی میں ذکر آتا ہے اور ان برکات اور فیوض سے حصہ لینے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں اپنی زندگیاں وقف کریں تا کہ افریقہ کی مختلف اقوام میں بھی بیداری پیدا ہو اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئی جو واذا الوُحُوشُ حُشِرَت کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہو۔مجھے افریقہ میں تبلیغ اسلام کی ابتدائی تحریک در حقیقت اس وجہ سے ہوئی کہ میں نے ایک دفعہ حدیث میں پڑھا کہ حبشہ سے ایک شخص اُٹھے گا جو عرب پر حملہ کرے گا اور مکہ مکرمہ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔سے جب میں نے یہ حدیث پڑھی اُسی وقت میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس علاقہ کو مسلمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ یہ انذاری خبر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل جائے اور مکہ مکرمہ پر حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہمیں بعض دفعہ منذر رویا آتا ہے تو ہم فوراً صدقہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کی موت کی خبر ہمیں ہوتی ہے تو وہ صدقہ کے ذریعہ ٹل جاتی ہے اور صدقہ کے ذریعہ موت کی خبریں مل سکتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر افریقہ کے لوگوں کو مسلمان بنا لیا جائے تو وہ خطرہ جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے نہ