انوارالعلوم (جلد 18) — Page 538
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۳۸ جماعت کو چار چیزوں کی طرف زور دینا چاہئے جائیں بالخصوص مبلغین کے لئے کہ وہ خاص دعاؤں کے محتاج ہیں بلکہ انہیں دعاؤں کا محتاج کہنا بھی درست نہیں در حقیقت ان کے لئے دعا کرنا ہمارا اپنا فرض ہے کیونکہ وہ ہمارا کام کرنے کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑ کر گئے ہوئے ہیں اور ہم پر ان کا ایک ایسا حق قائم ہو چکا ہے جو کامل طور پر دعائیں اور التجائیں کر کے ہی ہم ادا کر سکتے ہیں اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں جس سے ان کا حق ادا ہو سکے۔اب میں دعا کروں گا آپ لوگوں کے لئے ، اسلام اور احمدیت کے لئے۔آپ میرے لئے بھی اور سلسلہ کے مبلغین کے لئے بھی دعائیں کریں اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو بار آور فرمائے۔پھر خاص طور پر اس امر کے لئے دعائیں کی جائیں کہ جو چار باتیں میں نے اس وقت بیان کی ہیں ہماری جماعت کو اس پر قائم ہونے کی توفیق مل جائے۔یعنی نماز با جماعت کی پابندی سوائے کسی خاص مجبوری کے یہاں تک کہ اگر گھر میں بھی فرض نماز پڑھی جائے تو اپنے بیوی بچوں کو شامل کر کے جماعت کرالی جائے یا اگر بچے نہ ہوں تو بیوی کو ہی اپنے ساتھ کھڑا کر کے نماز با جماعت اوا کی جائے۔دوسرے سچائی پر قیام ایسی سچائی کہ دشمن بھی اسے دیکھ کر حیران رہ جائے۔تیسرے محنت کی عادت ایسی محنت کہ بہانہ سازی اور عذر تراشی کی روح ہماری جماعت میں سے بالکل مٹ جائے اور جس کے سپر د کوئی کام کیا جائے وہ اس کام کو پوری تن دہی سے سرانجام دے یا اسی کام میں فنا ہو جائے۔چوتھے عورتوں کی اصلاح ، ہر جگہ لجنہ اماءاللہ کا قیام اور عورتوں میں دینی تعلیم پھیلانے کی کوشش۔یہ چار چیزیں ہیں جن کے متعلق میں نے اس وقت توجہ دلائی ہے آپ لوگ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ اگلے سال جب آپ جلسہ سالانہ پر آئیں تو آپ میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ اس نے ان باتوں پر عمل کر لیا ہے بلکہ دل پر ہاتھ رکھنے کا سوال ہی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ لوگ ان باتوں پر عمل کر لیں گے تو خود بخو دا ایسے تغیرات پیدا ہوں گے کہ آپ لوگوں کو کسی گواہی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی خدا اور اس کے فرشتے خود گواہی دیں گے کہ آپ نے ان باتوں پر عمل کیا ہے اب میں دعا کرتا ہوں۔اقتصادی زندگی: میانہ روی کی زندگی الفضل ۱۶ / جنوری ۱۹۴۷ء )