انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 537

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۳۷ جماعت کو چار چیزوں کی طرف زور دینا چاہئے حیران رہ جاتا ہے کہ میں اس طرح فیصلہ کروں یا اُس طرح حالانکہ مؤمنوں کے مقدمات کا بڑی آسانی سے فیصلہ ہو جانا چاہئے۔قرآن کریم نے ہر مؤمن کو سچائی سے کام لینے کی تاکید فرمائی ہے بلکہ قرآن کریم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تمہیں صرف سچ سے ہی نہیں بلکہ سداد سے بھی کام لینا چاہئے یعنی تمہاری طرف سے جو بات پیش ہو وہ صرف سچی ہی نہ ہو بلکہ اس میں کسی قسم کا بیچ بھی نہ ہو۔کئی باتیں سچی تو ہوتی ہیں مگر بیچ کے ساتھ جھوٹ بنادی جاتی ہیں اسی لئے قرآن کریم نے صدق اور سدا د دونوں سے کام لینے کی نصیحت فرمائی ہے۔یہ چار نصیحتیں آپ لوگوں کو کرنے کے بعد میں دعا کے ساتھ آپ سب کو رخصت کرتا ہوں اگر آپ لوگ ان باتوں پر عمل کرلیں گے تو پھر خدا تعالیٰ آپ لوگوں کی تبلیغ میں بھی برکت پیدا کر دے گا ، آپ کے کاموں میں بھی برکت پیدا کر دے گا اور اسلام کی فتح کو قریب سے قریب ترلے آئے گا۔یہ چار دیواریں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔اب میں دعا کر کے آپ کو رخصت کرتا ہوں دعا میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ جہاں اپنے لئے اور اپنے رشتہ داروں کے لئے دعائیں کی جائیں وہاں اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے اور ان مبلغین کی کامیابی کے لئے بھی دعائیں کی جائیں جو اسلام کی خدمت کے لئے دور دراز ملکوں میں گئے ہوئے ہیں ، ایسے ایسے ملکوں میں جہاں انہیں کسی قسم کی راحت اور آرام کے سامان میسر نہیں ، ان کی باتیں سننے والا کوئی نہیں، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ، ان کے بوجھ کو بٹانے والا کوئی نہیں مگر پھر بھی وہ رات دن اسلام کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں۔حکومتیں ان کی دشمن ہیں، پبلک ان کی مخالف ہے ، سوسائٹی ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی غرض ہر طبقہ کے لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں مگر وہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم برا برلوگوں تک پہنچاتے چلے جاتے ہیں۔پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ جہاں آپ اسلام کی ترقی کے لئے جو کچھ کر سکتے ہوں ان سے دریغ نہ کریں وہاں ان زیادہ قربانی کرنے والے مبلغین کے لئے بھی دعائیں کریں۔اس اجتماع کے موقع پر مجھے دعا کے لئے بہت سی تاریں موصول ہوئی ہیں مگر میں وہ تاریں اب سنا نہیں سکتا صرف اسی قدر کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ ان سب دوستوں کے لئے دعائیں کی