انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 535

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۳۵ جماعت کو چار چیزوں کی طرف زور دینا چاہئے وہاں جماعت کے دوست محلہ میں کسی کے گھر پر جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ لیا کریں اور جہاں اس قسم کا انتظام بھی نہ ہو سکے وہاں گھروں میں نماز با جماعت ادا کی جائے اور مرد اپنے بیوی بچوں کو پیچھے کھڑا کر کے جماعت کرالیا کریں۔آج میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں خصوصاً عہدیداروں کو ، انہیں چاہئے کہ وہ ہر ماہ مجھے لکھتے رہا کریں کہ انہوں نے اس بارہ میں کیا کارروائی کی ہے۔دوسری چیز جس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ محنت کی عادت ہے میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بہت سے نوجوانوں میں محنت کی عادت نہیں پائی جاتی۔ذرا بھی محنت کا کام ان کے سامنے آ جائے تو وہ گھبرا جاتے اور اپنے فرض کو ادا کرنے میں کوتا ہی سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔یہ ایک خطر ناک نقص ہے جو ان میں پایا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ نظر آتا ہے کہ اگر وہ موقع آگیا جس میں دین کے لئے ہرقسم کی قربانیاں کرنی پڑیں تو اس قسم کے لوگ خواہ اس وقت قربانی بھی کریں ان کی قربانی چنداں مفید نہیں ہوگی کیونکہ محنت سے گھبرانے والے اپنے فرائض منصبی کو ادا کرنے کی نسبت آرام زیادہ پسند کرتے ہیں۔پس ہر جگہ کی جماعت کو خصوصاً خدام الاحمدیہ کو میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ انصار اللہ سے مل کر ایسی کوشش کریں کہ ہر احمدی اپنے اوقات کو صحیح طور پر صرف کرنے کی عادت اپنے اندر پیدا کرے اور جو کام اس کے سپرد کیا جائے اس کے متعلق وہ کوئی بہانہ نہ بنائے۔بہانہ بنانا ایک خطر ناک چیز ہے جس سے قوم تباہ ہو جاتی ہے ہمیں یہ عادت اس سال ڈالنی چاہئے کہ جس شخص کو کسی کام پر مقرر کیا جائے اس کا فرض ہے کہ یا تو وہ کام پوری دیانتداری سے کرے یا اس کام کے لئے جو وقت مقرر ہے اس کے ختم ہونے پر اس کی لاش وہاں نظر آئے۔اس کی زبان چلتی ہوئی یہ عذر نہ کرے کہ میں فلاں وجہ سے یہ کام نہیں کر سکا۔جب تک یہ روح ہماری جماعت کے نو جوانوں میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک وہ حقیقی قربانی پیش نہیں کر سکتے۔اس طرح مردوں کو چاہئے کہ جہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں وہاں لجنہ اماءاللہ قائم کریں۔میرے پاس بہت سی عورتوں نے شکایت کی ہے کہ مرد ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے بعض تو انہیں روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لجنہ کے جلسوں میں نہ جایا کرو اور بعض ایسے ہیں کہ اگر عورتیں لجنہ اماء اللہ قائم کرنا چاہیں تو