انوارالعلوم (جلد 18) — Page 534
۵۳۴ جماعت کو چار چیزوں کی طرف زور دینا چاہئے انوار العلوم جلد ۱۸ پس میں چند مختصر الفاظ میں جماعت کے مردوں اور عورتوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں اپنا نمونہ ایسا بنانے کی کوشش کرنی چاہئے جیسے خدا کے نبیوں کی جماعتوں کا نمونہ ہوتا رہا ہے اور ہونا چاہئے۔دنیا کی نگاہیں ہم پر ہیں اور دنیا کی امیدیں بھی ہمارے ساتھ وابستہ ہیں ایک طرف دنیا اس نقطہ نگاہ سے ہمیں دیکھ رہی ہے اگر ہم میں کوئی کمزوری پائی جائے تو وہ ہم پر اعتراض کرے اور ہمارے سلسلہ کو بدنام کرے اور دوسری طرف وہ اس نقطہ نگاہ سے ہمیں دیکھ رہی ہے کہ شاید اس کی کامیابی کے اور سارے ذرائع ناکام رہیں گے اور شاید اس کی امیدیں بھی انہی پاگلوں کے دعوئی سے وابستہ ہیں جو آج جماعت احمدیہ میں شامل ہیں۔وہ ہماری کمزوریوں پر اعتراض بھی کرتے ہیں اور وہ اس امید میں ہماری طرف بار بار دیکھتے بھی ہیں کہ اگر یہ حقیر اور مظلوم جماعت کا میاب ہو گئی تو ہم بچ جائیں گے اور اگر یہ جماعت تباہ ہوگئی تو ہم بھی تباہ ہو جائیں گے۔غرض دو مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور ہم سے دوسرے لوگ بھی اور ہمارے اپنے بھائی بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم اپنی قربانیوں سے ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے تخت کو دنیا میں قائم کریں اور دوسری طرف لوگوں کو ان مصائب سے بچائیں جو منہ کھولے کھڑے ہیں اور انہیں کھا جانے کے لئے بالکل تیار نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا اور مقدم فرض جو ایک مسلمان کا ہے وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے۔قرآن کریم نے عبادت کے لئے ہر جگہ اقامة صلوۃ کے الفاظ رکھے ہیں جن میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اقامت صلوۃ کے بغیر در حقیقت کوئی عبادت عبادت نہیں کہلا سکتی۔جب تک نماز باجماعت ادانہ کی جائے سوائے اُس کے کہ انسان بیمار یا معذور ہو اس وقت تک اس کی نماز اللہ تعالیٰ کے۔حضور قبول نہیں ہو سکتی ، میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی اس طرف پوری توجہ نہیں۔پس دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا پورا زور اس بات کے لئے صرف کر دیں کہ ہم میں سے ہر شخص نماز با جماعت کا پابند ہو۔میں نے پہلے بھی چند سال ہوئے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی اور اس پر کچھ عرصہ عمل بھی ہوا مگر پھر ستی واقع ہوگئی۔میں نے کہا تھا کہ جہاں یں قریب ہوں وہاں مسجدوں میں نماز باجماعت ادا کی جائے اور جہاں مسجد میں نہ ہوں