انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 526

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۲۶ ہے لیکن پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے۔پہلے صرف ایک مبلغ تھا۔متفرق امور دوسرا مشن سپین کا ہے پین وہ ملک ہے جس میں مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے جلد بعد ہی یعنی تقریباً ۷۰ سال کے اندر اندر اس ملک پر قبضہ کر لیا اور آٹھ سو سال تک وہاں اسلام کا جھنڈا لہراتا رہا۔سپین نے بڑے بڑے مسلمان عالم پیدا کئے۔مثلاً ابن رشد ، ابن خلدون اور تفسیر بحر محیط کے مصنف مگر جب مسلمانوں پر زوال آنا شروع ہوا تو یہ ملک عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا اور انہوں نے اسلام کا نام و نشان ہی مٹا دیا۔آجکل وہاں ایسے لوگ ملتے ہیں جن کے نام مسلمانوں کے سے ہیں مگر اسلام کا ان کو کوئی علم نہیں کیونکہ ان کو زبر دستی عیسائی بنالیا گیا۔میں ابھی بچہ ہی تھا اور کوئی طاقت مجھے حاصل نہ تھی اُس وقت میرے دل میں یہ ولولہ پیدا ہوا کہ خدا نے جب بھی مجھے طاقت بخشی میں پھر سپین میں اسلام کا جھنڈا گاڑوں گا۔اس وقت ہمارے دو مبلغ میڈرڈ میں کام کر رہے ہیں اور وہاں چھ مہینہ میں دو احمدی ہو چکے ہیں۔تیسرا ملک فرانس ہے۔اس کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ کچھ عرصہ مسلمان وہاں رہے اور دوسرے سپین کی تباہی میں اس کا بہت دخل تھا۔تیسرے بہت سے اسلامی ممالک اس کے ماتحت ہیں وہ بہت عیاش ملک ہے اور مذہب سے بہت کم دلچسپی رکھتا ہے اس لئے وہاں کا میابی میں دیر لگے گی۔اٹلی وہ ملک ہے جو عیسائیب کا مرکز ہے جہاں سے اسلام کے خلاف جنگ کی صدا ہمیشہ بلند ہوتی رہی ہے۔مسلمان بھی اس پر حملہ آور ہوئے اور سینکڑوں برس تک اس پر قابض رہے۔یہ ملک ہمیشہ ہی اسلام کے لئے خطرہ کا موجب رہا ہے اس لئے یہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔اس وقت ہمارے تین مبلغ وہاں کام کر رہے ہیں تھوڑے ہی عرصہ میں آٹھ دس افراد احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میری سکیم میں شامل نہ تھا لیکن جرمنی میں داخلہ کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مبلغین نے وہاں کام شروع کر دیا ہے اور جرمنی کیلئے راستہ صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔شگاگو میں ہمارا مرکز قائم ہے خلیل احمد صاحب ناصر اور مرزا منور احمد صاحب نئے مبلغ