انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 523

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۲۳ متفرق امور بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور ( تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۶ء بر موقع جلسه سالانه قادیان ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں سب سے پہلے مولوی محمد علی صاحب کے حلف کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔اس حلف کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ محمد اسلم صاحب ایک غیر مبائع دوست اور فیض الرحمن صاحب فیضی نے مجھے لکھا کہ کیا آپ مولوی محمد علی صاحب کے مطالبہ حلف کے جواب میں حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں؟ اس پر میں نے ان کو جواب دیا کہ جب مولوی صاحب مجھ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں تو لازماً ہماری طرف سے بھی اس قسم کا مطالبہ ہوگا۔ہاں یہ جائز نہ ہوگا کہ فریق مخالف دوسرے فریق کی طرف خود ساختہ عقائد منسوب کر کے حلف کا مطالبہ کرے۔ہر فریق اپنے اپنے عقائد کا خود اعلان کرے گا ، ہاں ایک فریق دوسرے کی تبدیلی عقائد کو ثابت کرنے کا مجاز ہوگا۔مسئلہ متنازعہ فیہ یہ ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۱ء سے قبل نبوت کی اور تعریف کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس تعریف کے رو سے آپ کی نبوت ناقص ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کو بار بار نبی کے نام سے موسوم کیا تب آپ کو تفہیم ہوئی کہ نبی کی اور بھی تعریف کی جا سکتی ہے جس کی رو سے آپ نبی ہیں لیکن مولوی محمد علی صاحب کا عقیدہ اس سے مختلف ہے۔مولوی صاحب نے اس جلسہ سالانہ پر قسم کھانے کا اعلان کیا تھا۔اگر فی الواقع وہ حلف کے لئے تیار ہیں تو اس کے لئے میں ایک آسان راہ بتا تا ہوں کہ اخبارات کی بحث کو چھوڑ کر ہم اپنا ایک ایک نمائندہ بنا ئیں۔مثلاً میں اپنی طرف سے چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خاں صاحب کو پیش کرتا ہوں وہ بھی ایک نمائندہ منتخب کر کے اپنی باتیں اس کے