انوارالعلوم (جلد 18) — Page 518
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۱۸ اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا سائنسدانوں کا تعلق ہے وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان تباہیوں سے بچنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔جب بھی کسی شخص نے ان ذرائع سے کام لیا دنیا کی وہ تہذیب جس کا نام وہ تہذیب رکھتے ہیں اس کی ہلاکت اور تباہی میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔مگر و مَكَرُوا وَمَكَرُ الله، والله خَيْرُ المَاكِرِينَ کے جب انہوں نے اپنے ذہن میں ایک تدبیر کی اور سمجھا کہ ان ذرائع کے ذریعہ ہم کامیابی کا منہ دیکھ لیں گے تو خدا نے بھی ایک تدبیر کی اور انہیں دکھا دیا کہ وہ کامیابی کی طرف نہیں بلکہ ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں اس کے ساتھ ہی خدا نے ایک اور تدبیر کی اور اس کے ذریعہ دنیا کو بچانے کا سامان پیدا کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ تین سو سال کے عرصہ میں ہماری جماعت ترقی کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گی کہ دنیا کے تمام مذاہب پر غالب آجائے گی اور وہ اقوام جو احمدیت میں شامل نہیں ہوں گی وہ ایسی ہی بے حیثیت رہ جائیں گی جیسے اچھوت اقوام اس وقت بے دست و پا اور حقیر ہیں۔کے اگر ایٹم بم اور اسی قسم کی ایجادوں نے دنیا کو پندرہ بیس سال میں تباہ کر دینا ہے تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی اور اگر اس پیشگوئی نے پورا ہونا ہے تو سائنسدانوں کے تمام خیالات غلط ثابت ہوں گے اور خدا کوئی نہ کوئی ایسی صورت پیدا کر دے گا جس کے نتیجہ میں جس طرح ان کی امیدیں غلط ہوتی ہیں اسی طرح ان کے خطرے بھی غلط ثابت ہوں گے۔دنیا نے ابھی قائم رہنا ہے اور دنیا میں پھر اسلام نے سر اُٹھانا ہے۔عیسائیت نے سر اُٹھایا اور ایک لمبے عرصہ تک اس نے حکومت کی مگر اب عیسائیت کی حکومت اور اس کے غلبہ کا خاتمہ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ عیسائیت کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے تا وہ کہ سکیں کہ دنیا پر جو آخری جھنڈا لہرایا وہ عیسائیت کا تھا مگر ہمارا خدا اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا پر آخری جھنڈا عیسائیت کا لہرایا جائے دنیا میں آخری جھنڈا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گاڑا جائے گا اور یقیناً یہ دنیا تباہ نہیں ہوگی جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈ ا ساری دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں لہرائے گا۔انہوں نے اپنی کوششوں اور تدبیروں کے ساتھ موت کے ذریعہ کو معلوم کر لیا ہے مگر اسلام کو قائم کرنے والا وہ خدا ہے جس کے ہاتھ میں موت بھی ہے اور حیات بھی ہے۔یہ موت