انوارالعلوم (جلد 18) — Page 519
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۱۹ اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا کے ذریعہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا پر حاکم ہو گئے ہیں حالانکہ اصل حاکم وہ ہے جس کے قبضہ میں موت اور حیات دونوں ہیں۔اگر یہ ساری دنیا کو مار بھی دینگے تب بھی وہ خدا جس کے قبضہ میں حیات ہے اسی طرح اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کر دے گا جس طرح آدم کے ذریعہ اُس نے نسل انسانی کو قائم کیا۔بہر حال دنیا پر قیامت کا دن نہیں آ سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر نہیں لہرایا جاتا۔مگر یہ تو خدا کی باتیں ہیں اور خدا اپنی باتوں کا آپ ذمہ دار ہے ہم پر جو فرض عائد ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں اور اپنی جانوں کو خدا کے لئے قربان کر دیں اور اپنے نفوس کو ہمیشہ اس کی اطاعت کے لئے تیار رکھیں تا کہ اس کا فضل اور اس کی رحمت اور اس کی برکت ہم پر نازل ہو اور ہم اس کے حقیر ہتھیار بن کر دنیا میں عظیم الشان نتیجہ پیدا کرنے کا موجب بن جائیں۔پس ہمارا ذہن اور ہماری ذمہ داری ہمیں اس طرف بلاتی ہے کہ باوجود اس کے وعدوں کے ہم اپنی کمزوریوں اور اپنی بے بسیوں کو دیکھتے ہوئے۔خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اُسی سے التجا کریں کہ اے ہمارے رب ! اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں ایک کام کے لئے کھڑا کیا ہے جس کے کرنے کی کروڑواں اور ار بواں حصہ بھی ہم میں طاقت نہیں ، اے ہمارے رب ! تو نے اپنے رسول کے ذریعہ ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تم اپنے غلام سے کوئی ایسا کام لو جو اُس کی طاقت سے باہر ہو تو تم خود اس کے ساتھ مل کر کام کرو ورنہ اُس سے ایسا کام نہ لو جو اس کی طاقت سے باہر ہو، اے ہمارے رب ! تو نے جب اپنے بندوں کو جن کی طاقتیں محدود ہیں یہ حکم دیا ہے کہ کسی کے سپر دکوئی ایسا کام نہ کرو جو اُس کی طاقت سے بالا ہو تو اے ہمارے ربّ! تیری شان اور تیرے فضل اور تیری رحمت سے ہم کب یہ امید کر سکتے ہیں کہ تو ایک ایسا کام ہمارے سپرد کر دے گا جو ہماری طاقت سے بالا ہوگا لیکن خود ہماری مدد کے لئے آسمان سے نہیں اُترے گا یقیناً اُترے گا اور ہماری مدد کرے گا اور ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو ہماری کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے فضلوں کو بڑھا تا جا، اپنی رحمتوں کو بڑھاتا جا ، اپنی برکتوں کو بڑھا تا جایہاں تک کہ ہماری ساری کمزوریوں کو تیرے فضل ڈھانپ لیں اور ہمارے سارے کام تیرے فضل سے اپنی تکمیل کو پہنچ جائیں تا کہ تیرے احسانوں میں سے ایک یہ بھی