انوارالعلوم (جلد 18) — Page 31
انوار العلوم جلد ۱۸ ٣١ اسلام کا اقتصادی نظام خدمات کی وجہ سے ہوئی۔فرانس اور پین کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اُن کی ترقی اُن خدمات کی رہین منت تھی جو آج سے دو تین سو سال پہلے اُن ممالک میں غلاموں نے سرانجام دیں اور جنہوں نے اُن کی اقتصادی حالت کو ترقی دے کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔پس غلامی اور اقتصادی مسائل چونکہ باہم لازم و ملزوم ہیں اس لئے میں نے بتایا ہے کہ اسلام کا نظام کیسا کامل ہے کہ اُس نے شروع سے ہی غلامی پر تبر رکھ دیا اور کہہ دیا کہ اس کے ذریعہ جو ترقی ہوگی وہ کبھی شریفانہ اور باعزت ترقی نہیں کہلا سکتی۔عام اقتصادی نظام اقتصادی نظام کے متعلق دو قسم کے نظریے اب میں عام اقتصادی نظام کو۔لیتا ہوں لیکن اس مضمون کو بیان کرنے سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ مذاہب جو حیات مَا بَعْد الْمَوت کے قائل ہیں اقتصادی نظام کے بارہ میں انفرادی آزادی کے قیام کے پابند ہیں۔درحقیقت دنیا میں دوستم کی قو میں پائی جاتی ہیں۔ایک وہ ہیں جو مذہبی ہیں اور دوسری وہ ہیں جو لا مذہب ہیں۔جو اقوام لا مذہب ہیں وہ تو ہر قسم کے نظام کو جو اُن کی عقل میں آجائے تسلیم کر سکتی ہیں لیکن وہ اقوام جو مذہب کو قبول کرتی ہیں وہ اصرار کریں گی کہ دنیا میں ایسا ہی نظام ہونا چاہئے جو مر نے کے بعد کی زندگی پر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت وہ مذاہب جو حیات بَعْدُ المَوت کے قائل ہیں لازماً اقتصادی نظام کے بارہ میں انفرادی آزادی کے قیام کے پابند ہوں گے کیونکہ جو لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کو زندہ کیا جائے گا وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ نیک اعمال بجالائیں گے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کا قرب ان کو حاصل ہوگا ، خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اُن کے شامل حال ہوگی ، اُس کی قدوسیت اور سبوحیت اُنہیں ڈھانپے ہوئے ہوگی ، وہ مقربانِ الہی میں شامل ہوں گے، ہر قسم کے اعلیٰ روحانی علوم اُن کو حاصل ہوں گے اور دنیا کی سب کمزوریاں دُور ہو کر علم و عرفان کا کمال اُن کو حاصل ہوگا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی شخص کہہ دے یہ عقیدہ بالکل غلط ہے ، جھوٹ