انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 30

انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام اس کو پیٹنے کا حق تھا۔اسلام اس قسم کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔وہ نو کر کو اجازت دیتا ہے کہ اگر اُسے پیٹا جائے تو قضاء میں اپنے مالک کے خلاف دعوی دائر کرے اور اُسے سزا دلوائے۔اور اگر وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے تو اگر وہ اُسے ایک تھپڑ بھی مار بیٹھے تو اسلامی حکومت کو حکم ہے کہ وہ اُسے فوراً آزاد کرا دے اور نگران سے کہے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ کسی قیدی کو اپنے پاس رکھ سکو۔پھر حکم دیا کہ جو کچھ خود کھاؤ وہ اپنے غلاموں کو کھلاؤ، جو خود پہنو و ہی اُن کو پہنا ؤ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے زمانہ میں کئی غلام اپنے گھروں کو واپس جانا پسند ہی نہیں کرتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ اگر ہم گھر گئے تو ہمیں دال بھی نصیب نہیں ہوگی مگر یہاں تو ہمیں روزانہ اچھا کھانا کھانے کو ملتا ہے اور پھر مالک کی یہ حالت ہے کہ وہ پہلے ہمیں کھلاتا ہے اور بعد میں آپ کھاتا ہے۔ایسے مزے ہمیں اپنے گھروں میں کہاں میسر آسکتے ہیں۔چنانچہ جب مسلمان بادشاہ بنے اور حکومت اُن کے ہاتھ میں آئی تو وہ غلاموں کو اپنے گھروں سے نکالتے بھی تھے تو وہ نہیں نکلتے تھے۔وہ کہتے تھے فدیہ دو اور آزاد ہو جاؤ مگر وہ فدیہ نہ دیتے۔وہ کہتے تھے اگر فدیہ نہیں دے سکتے تو ہم سے قسطیں مقرر کر لو اور آزاد ہو جاؤ مگر وہ قسطیں بھی مقرر نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم آزاد ہو کر واپس چلے گئے تو پھر وہ مزے ہمیں حاصل نہیں ہوں گے جو آب حاصل ہیں۔ایسی صورت میں اگر کچھ لوگ غلام بھی رہے ہوں تو دنیا کو ایسی غلامی پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔غلامی اور اقتصادیات یہ غلامی کا مضمون نہیں لیکن دنیا کی لمبی تاریخ میں غلامی اور ملکوں کے اقتصادی نظام آپس میں ملے چلے آتے ہیں۔روس میں سائبیریا کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں ہی کی رہین منت تھی۔اسی طرح امریکہ کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں ہی کی رہین منت تھی۔وہ اپنے علاقوں کو کبھی خود آباد نہیں کر سکتے تھے۔لاکھوں لاکھ غلام وہ مغربی افریقہ سے لائے اور وہ امریکہ کے بے آباد علاقوں کو آباد کر گئے۔آج امریکہ اپنی دولت پر نازاں ہے، اپنی تجارت اور اپنی صنعت پر نازاں ہے مگر امریکہ کی یہ دولت اور امریکہ کی آبادی رہین منت ہے اُن حبشی غلاموں کی جن کو وہ مغربی افریقہ سے پکڑ کر لائے۔اسی طرح یونان اور روما کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُن کی آبادی بھی غلاموں کی خدمات کی رہین منت ہے ، مصر کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اس کی آبادی غلاموں کی