انوارالعلوم (جلد 18) — Page 505
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۰۵ خدا تعالی دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا تعالی دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے ( فرموده ۱۹؍ دسمبر ۱۹۴۶ ء بعد نماز مغرب۔قادیان ) دنیا کی ہدایت اور اس کو سچا راستہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اس کے انبیاء مبعوث ہوتے رہتے ہیں۔درحقیقت انسان کا تعلق خدا سے اس تعلق سے بہت زیادہ ہے جو اُس کا اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے۔ماں باپ کو اپنے بچوں سے اس لئے محبت ہوتی ہے کہ انہوں نے بچوں کی خدمت کی ہوئی ہوتی ہے اور بچوں کو اپنے ماں باپ سے اس لئے محبت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاتھوں سے لگائے ہوئے درختوں کے پھل کھاتے ہیں۔جس شخص نے اپنے ہاتھ سے کوئی درخت لگایا ہو اور اُس کی خدمت کر رہا ہو اُس کو بسا اوقات اتنی بھی امید نہیں ہوتی کہ وہ اس درخت کا پھل کھا سکے مگر چونکہ اُس نے وہ درخت خود لگایا ہوتا ہے اور اُس کی خدمت کی ہوتی ہے اس لئے اسے اس کے ساتھ گہری محبت ہوتی ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بڑھا جس کی عمر ستر اسی کے قریب تھی وہ ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جو کئی سال کے بعد پھل دینے والا تھا۔اتنے میں اُس علاقہ کے بادشاہ کا اُدھر سے گزر ہوا۔اس نے جب بڑھے کو اس قسم کا درخت لگاتے دیکھا تو وہ بڑھے سے مخاطب ہو کر کہنے لگا میاں بڑھے ! تم تو قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو اور تمہاری عمر نہایت قلیل رہ چکی ہے مگر تم درخت اس قسم کا لگا رہے ہو جو ایک لمبے عرصہ کے بعد پھل لائے گا۔بڈھے نے عرض کیا بادشاہ سلامت ! اگر ہمارے باپ دادے بھی اس قسم کے خیالات رکھتے کہ ہم جو درخت لگائیں گے ان کے پھل نہ کھا سکیں گے تو آج ہمارے لئے کوئی پھل دار درخت نہ ہوتا یہ سلسلہ تو اسی طرح چلا آتا ہے اور چلا جائے گا کہ ایک نسل درخت لگاتی ہے اور دوسری اس سے پھل حاصل کرتی ہے۔بادشاہ