انوارالعلوم (جلد 18) — Page 506
انوار العلوم جلد ۱۸ خدا تعالی دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے دو 66 یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا ”زہ بادشاہ نے حکم دے رکھا تھا کہ جب میں کسی کی بات پر خوش ہوکر زہ“ کا لفظ استعمال کروں تو اس شخص کو تین ہزار روپے کی تھیلی انعام کے طور پر دے دی جایا کرے چنانچہ جب بادشاہ نے بڑھے کی بات سن کر اور خوش ہو کر زہ" کہا تو جھٹ وزیر نے ایک تھیلی بڑھے کو دے دی۔بڑھے نے تھیلی لے کر کہا بادشاہ سلامت ! آپ نے تو ابھی فرمایا تھا کہ تم اس قدر بوڑھے ہو کہ تم اس درخت کے پھل لانے تک زندہ بھی نہ رہ سکو گے مگر میں نے تو ادھر درخت لگایا اور ادھر اس کا پھل بھی کھا لیا۔بادشاہ بڑھے کی یہ بات سن کر پھر خوش ہوا اور کہنے لگا نہ اس پر وزیر نے ایک اور تھیلی تین ہزار کی بڑھے کو دے دی۔بڑھے نے دوسری تھیلی اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہا بادشاہ سلامت ! لوگ تو پھل دار درختوں کا سال میں صرف ایک پھل حاصل کرتے ہیں مگر میں نے تو درخت لگاتے ہی اس کا دو دفعہ پھل کھا لیا۔بادشاہ یہ سن کر پھر خوش ہوا اور کہنے لگا ”زہ اس پر وزیر نے ایک تیسری تھیلی بھی بڑھے کے حوالے کر دی۔اس کے بعد بادشاہ نے کہا یہاں سے جلدی چلو ورنہ یہ بڑھا تو ہمارا سارا خزانہ لوٹ لے گا۔اب دیکھو وہ بڑھا جو درخت لگا رہا تھا وہ بہت دیر کے بعد پھل لانے والا تھا اور بڑھے کی عمر ایسی نہ تھی کہ اس کے پھل لانے تک زندہ رہ سکے مگر وہ اس درخت کی خدمت کرتا رہا اور اس کو اپنے لگائے ہوئے درخت کے ساتھ محبت تھی۔وہ اس کو پانی بھی دیتا تھا اور اس کی حفاظت بھی کرتا تھا۔اسی طرح ایک بچہ اپنے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا بلکہ ماں باپ اس کی خدمت کرتے ہیں، اس کے آرام کا انہیں فکر ہوتا ہے، اس کے لئے وہ کھانا اور کپڑا مہیا کرتے ہیں۔پس محبت احسان کے بدلہ میں ہی نہیں ہوتی بلکہ احسان کرنے سے بھی محبت پیدا ہوتی ہے مگر ماں باپ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے محبت ہوتی ہے۔ایک ماں تو صرف نو مہینے اپنے بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے اور اس کے بعد دو سال تک دودھ پلاتی اور تھوڑے عرصہ تک اس کی نگہداشت کرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہمیشہ ہمیش اپنے بندے کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ماں نے تو بچے کو صرف نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایک لمبا عرصہ پہلے اس کے لئے اپنی زمین میں طرح طرح کے پھل اور ترکاریاں پیدا کیں ، اس کے لئے چاند ، سورج اور ستارے پیدا کئے ، اس کے لئے کپڑا اور کھانا پیدا کیا غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے