انوارالعلوم (جلد 18) — Page 29
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۹ اسلام کا اقتصادی نظام حضرت عمرؓ کی شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے غلام نے ہی مارا تھا جس نے مکاتبت کی ہوئی تھی۔وہ غلام جس مسلمان کے ہاتھ سے کے پاس رہتا تھا اُن سے ایک دن اُس نے کہا کہ ایک غلام میری اتنی حیثیت ہے آپ مجھ پر تاوان ڈال دیں میں ماہوارا قساط کے ذریعہ آہستہ آہستہ تمام تاوان ادا کر دونگا۔انہوں نے ایک معمولی سی قسط مقرر کر دی اور وہ ادا کرتا رہا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اُس نے شکایت کی کہ میرے مالک نے مجھ پر بھاری قسط مقرر کر رکھی ہے آپ اُسے کم کرا دیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کی آمدن کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جتنی آمد کے اندازہ پر قسط مقرر ہوئی تھی اُس سے کئی گنا زیادہ آمد وہ پیدا کرتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قدر آمد کے مقابلہ میں تمہاری قسط بہت معمولی ہے اسے کم نہیں کیا جاسکتا۔اس فیصلہ سے اُسے سخت غصہ آیا اور اُس نے سمجھا کہ میں چونکہ ایرانی ہوں اس لئے میرے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے اور میرے مالک کا عرب ہونے کی وجہ سے لحاظ کیا گیا ہے۔چنانچہ اس غصہ میں اُس نے دوسرے ہی دن خنجر سے آپ پر حملہ کر دیا اور آپ انہی زخموں کے نتیجہ میں شہید ہو گئے۔غرض اسلام نے یہ حق مقرر کیا ہوا تھا کہ اگر کوئی غلام آزاد ہونا چاہے تو وہ قسط وارتا وان کو ادا کرنا شروع کر دے اور اگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی کام شروع کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں اتُوهُمْ مِّن مَّالِ اللهِ الذي اللحم کا حکم تھا یعنی مالک خود مدد کر کے یا حکومت مسلمہ مددکر کے اُسے آزادی کا معاہدہ کروا دے۔جنگی قیدیوں سے حسن سلوک کی تعلیم کام کے بارہ میں یہ ہدایت دی کہ جب تک وہ گھر میں رہے اُس سے وہی کام لو جو وہ کر سکتا ہو۔اگر کوئی مشکل کام ہو تو اُس کے ساتھ شامل ہو جاؤ اُسے گالی نہ دو۔اگر وہ مزدوری کرتا ہے تو اُس کی مزدوری اُسے پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔اگر کام کرنے والا آزاد ہے اور مالک اُسے مار بیٹھتا ہے تو وہ حق رکھتا ہے کہ عدالت میں جائے اور قصاص کا مطالبہ کر کے اسلامی قضاء سے اُسے سزا دلوائے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو میرا نوکر تھا اور مجھے