انوارالعلوم (جلد 18) — Page 491
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۹۱ دا ئیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے حالانکہ یہ چیز اسلام کی خصوصیات اور رسول کریم صلی اللہ وسلم کے طرز عمل کے بالکل خلاف ہے۔پھر بھی لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔مثلاً آجکل شمس صاحب آئے ہوئے ہیں اور سارے قادیان میں ان کی دعوتیں ہو رہی ہیں مجھے بھی بلا لیا جاتا ہے دعوت کرنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سب سے پہلے خلیفہ کے سامنے چائے یا کھانا رکھا جائے۔اُن کی یہ خواہش تو درست ہے مگر میرے سامنے کھانا رکھنے کے بعد وہ بائیں طرف کھانا رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان لوگوں ( یعنی شمس صاحب اور سید منیر الحصنی ) کو انہوں نے میرے بائیں طرف بٹھایا ہوتا ہے اور چونکہ خلیفہ کے بعد ان مہمانوں کا حق سمجھا جاتا ہے اس لئے مجبوراً ان کو بائیں طرف سے شروع کرنا پڑتا ہے مگر یا درکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اعزاز کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ سب کام دائیں سے شروع کرنے چاہئیں تو دوسرا کون ہوسکتا ہے جو کہے کہ بائیں سے شروع کرو اس لئے اگر مہمان کو میرے بائیں بٹھاتے ہیں تو چاہئے کہ خواہ مہمان بائیں بیٹھے رہیں کھانا دائیں سے شروع کیا جائے تاکہ غلطی کرنے والے کو سزا ملے اور اس نے جن مہمانوں کی دعوت کی ہے اُن کو سب سے بعد میں کھانا ملے۔اگر وہ غلطی سے کھانا بائیں ہی کو پھیر دے گا تو دوسری دفعہ اُس کو یاد نہیں آسکے گا اس لئے ضروری ہے کہ بائیں طرف مہمان بٹھانے والا دائیں سے شروع کرے تا کہ اُس کو اس غلطی کی سزا ملے۔آجکل بہت سے لوگ غلطی کی سزا کو صرف سزا ہی سمجھتے ہیں اصلاح نہیں سمجھتے حالانکہ سزا کی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے۔ہمارے اکثر آئمہ اپنے نفس کو خود سزا دیا کرتے تھے۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانیت جب تک ان کے متبعین میں رہی ان کی قوم کے بزرگ بھی اپنے نفس کی اصلاح کے لئے اپنے آپ کو کئی قسم کی سزائیں دیا کرتے تھے۔ایک بزرگ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ ساری رات اپنے آپ کو کوڑے مارتے رہتے تھے تو دیکھو وہ اپنے نفس کو خود سزا دیتے تھے۔یہ ایک اعلیٰ نکتہ اصلاح کا ہوتا ہے۔پس سزا ٹلانے کے قابل نہیں ہوتی بلکہ وہ ضرور لینی چاہئے تا کہ نفس کی اصلاح ہو۔یہ تصوف کی بات ہے اور صلحاء میں نفس کی سزاد ینا اصولی نکتہ سمجھا جاتا ہے اور ہمیشہ سے اس پر عمل ہوتا چلا آیا ہے۔