انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 28

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۸ اسلام کا اقتصادی نظام ساتھ ہی قیدی کے نگر ان کی بھی یہ حالت ہو کہ وہ بغیر فدیہ کے اُسے آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس لئے اسلام نے اس کا یہ علاج بتایا کہ وہ غلام تاوانِ جنگ کی قسطیں مقرر کر کے آزاد ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَا يَبُوهُمْ إِن عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ، وَاتُوهُم مِّن مَّالِ اللهِ الَّذِي الرحم یعنی اگر کوئی ایسا قیدی ہو جسے تم احسان کر کے نہ چھوڑ سکو اور اُس کے رشتہ دار بھی اس کا فدیہ نہ دے سکیں تو اس صورت میں ہماری یہ ہدایت ہے کہ اگر وہ آزاد ہونا چاہے تو وہ نگران سے کہہ دے کہ میں خود روپیہ کما کر قسط اور فدیہ ادا کرتا چلا جاؤں گا آپ مجھے آزاد کر دیں۔اگر وہ قسط اور فدیہ ادا کرنے کا اقرار کر لے تو اسلامی تعلیم کے ماتحت وہ اُسی وقت آزاد ہو جائے گا۔پھر فرمایا ہم تمہیں اس کے ساتھ یہ بھی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر تمہیں تو فیق ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ہوا ہو تو چونکہ مال خدا کا ہے اور غلام بھی خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے اس لئے تم اپنے مال میں سے ایک حصہ اُسے بطور سرمایہ دے دو تا کہ وہ اُس پر اپنے کاروبار کی بنیا درکھ کر آسانی سے قسطیں ادا کر سکے۔اب بتاؤ کیا کوئی بھی صورت ایسی رہ جاتی ہے جس میں کسی کو غلام بنایا جا سکتا ہو۔اتنے وسیع احکام اور اتنی غیر معمولی رعایتوں کے بعد بھی اگر کوئی شخص غلامی سے آزاد ہونا پسند نہیں کرتا اور اپنی مرضی سے کسی مسلمان کے پاس رہتا ہے تو سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود اپنے گھر کے ظلموں سے بیزار ہے اور جانتا ہے کہ اگر میں آزاد ہو کر اپنے گھر گیا تو مجھے زیادہ تکلیف اُٹھانی پڑے گی اس لئے میرے لئے یہی بہتر ہے کہ اس زندگی کو ترجیح دوں۔ورنہ غور کر کے دیکھ لیا جائے کوئی ایک صورت بھی ایسی نہیں رہ جاتی جس میں کسی کو غلام بنایا جا سکتا ہو۔پہلے تو یہ حکم دیا کہ تم احسان کر کے بغیر کسی تا وان کے ہی اُن کو رہا کر دو۔پھر یہ کہا کہ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو تاوان وصول کر کے آزاد کر دو اور اگر کوئی ص ایسا رہ جائے جو خود تاوان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کی حکومت بھی اُس کے معاملہ میں کوئی دلچسپی نہ لیتی ہو اور اُس کے رشتہ دار بھی لا پرواہ ہوں تو وہ تم کو نوٹس دے کر اپنی تاوان کی قسطیں مقرر کروا سکتا ہے۔ایسی صورت میں جہاں تک اُس کی کمائی کا تعلق ہے قسط چھوڑ کر سب اُسی کی ہوگی اور وہ عملاً پورے طور پر آزاد ہوگا۔