انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 478

انوار العلوم جلد ۱۸ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی فرمایا پانی ہے؟ آپ کی پھوپھی پانی لائیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ روٹی پانی میں بھگو دی۔اس کے بعد فرمایا سالن ہے؟ پھوپھی نے کہا سالن ہمارے گھر میں کہاں سے آیا اگر ہوتا تو میں پہلے نہ لے آتی میرے پاس تو صرف تھوڑا سا کھٹا سر کہ پڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سرکہ سے اچھا سالن اور کیا ہو گا لا ئیں اس سے روٹی کھالوں۔چنانچہ سرکہ لایا گیا اور آپ نے اس سے بھگوئی ہوئی روٹی کھائی سے یہ انگ لگنے والا کھانا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرکہ کو بھی خدا کی نعمت سمجھا اور سوکھی روٹی اس کے ساتھ کھا کر اس کے فضل کا شکر ادا کیا۔پس در حقیقت ہاضمہ انسان کی اس بشاشت سے پیدا ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے اگر خوشی سے ایک معمولی چیز بھی کھائی جائے تو وہ بہت زیادہ قوت پیدا کرتی ہے لیکن اگر رنج سے اچھی سے اچھی چیز بھی کھائی جائے تو وہ انسان کے اندر کوئی قوت پیدا نہیں کرتی۔تم لوگ ہر چیز کے متعلق یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں زیادہ ملنی چاہئے تھی مگر کم ملی۔مگر وہ ہر چیز کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں کم ملنی چاہئے تھی مگر زیادہ ملی اس وجہ سے ان کی ایک ایک روٹی انہیں وہ فائدہ پہنچا دیتی تھی جو تمہیں دس دس روٹیاں بھی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کمئی غذا کا شکار ہولیکن میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں تمہیں ہیں ہیں روٹیاں بھی اپنے سامنے کھلاؤں تو تم پہلے سے زیادہ دُبلے ہوتے چلے جاؤ کیونکہ تمہیں اُمنگ نہیں اور تم میں سے بعض نے ابھی ایمان کی حلاوت نہیں چکھی تمہارے دل اس حقیقت سے قطعی طور پر بے خبر ہیں کہ تمہیں خدا نے ایک عظیم الشان روحانی کام کے لئے پیدا کیا ہے اور جسے خدا روحانی انقلاب اور تغیر کے لئے پیدا کرے اس کے مقابلہ میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی بیچی ہوتا ہے مگر بجائے اس کے کہ تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنے فرائض کا صحیح احساس پیدا کرو تم نہایت ادنی اور ذلیل چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہو اور کہتے ہو مجھے یہ نہیں ملا مجھے وہ نہیں ملا جب تک تمہارے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو کہ تمہیں خدا نے کس غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جب تک تم اپنے درجہ کو نہ پہچانو اُس وقت تک تم نے کام کیا کرنا ہے۔تم کو تو خدا نے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا دل خوشی کی لہروں سے ہر وقت پر رہنا چاہئے اور تمہارے اندر ہر وقت بیداری اور ہوشیاری نظر آنی چاہئے۔اگر یہ چیز تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو فوری طور پر تم