انوارالعلوم (جلد 18) — Page 472
انوارالعلوم جلد ۱۸ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی سکو تو پھر دل میں ہی نماز پڑھ لو۔اگر ہمارے مذہب میں یہ حکم نہ ہوتا تو سینکڑوں نہیں ہزاروں ہزار آدمی نماز سے محروم ہو جاتے۔مسلمان اس وقت چالیس پچاس کروڑ ہیں اور ان چالیس پچاس کروڑ میں سے دو تین کروڑ ہر وقت ایسے بیمار ہو سکتے ہیں کہ ان کے لئے حرکت کرنا یا کھڑا ہونا مشکل ہوا ایسے لوگوں کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی سبیل نہ رکھی ہوتی اور کوئی راستہ ان کے لئے تجویز نہ کیا ہوتا تو وہ نماز سے محروم ہو جاتے۔پس اسلام کی یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے ہر قسم کی طبائع کا لحاظ رکھا اور اپنے احکام کے ساتھ استثنائی صورتوں کے جواز کا بھی راستہ کھول دیا۔جب ہم دشمن کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے مذہب میں یہ جائز ہے کہ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے، اگر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر نماز پڑھ لے، اگر لیٹ کر نماز نہ پڑھ سکے تو انگلی کے اشارہ سے نماز پڑھ لے، اگر انگلی کے اشارہ سے نماز نہ پڑھ سکے تو اپنی آنکھوں کی جنبش سے نماز پڑھ لے اور اگر اپنی آنکھوں کی جنبش سے بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل میں ہی نماز کے کلمات ادا کر لیا کرے۔اور ہم یہ بات ایک عیسائی کے سامنے بیان کرتے ہیں یا ایک ہندو کے سامنے بیان کرتے ہیں یا ایک زرتشتی کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس کا وہ مذہب جو رسم و رواج کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اس قسم کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتا تو اُس کا سر جھک جاتا ہے ، اس کی آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں اور ہماری گردن فخر سے تن جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ ہم نے بہادری کا کام کیا بلکہ اس لئے کہ ہمیں خدا نے ایک ایسی تعلیم دی ہے جو اپنے اندر استثناء بھی رکھتی ہے۔یہ چیز تو یقیناً شاندار ہے اور دشمن پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن اگر ہم مساجد میں جائیں اور دیکھیں کہ تمام نمازی لیٹے ہوئے ہیں کوئی انگلی کے اشارہ سے نماز پڑھ رہا ہے، کوئی سر کی جنبش سے نماز پڑھ رہا ہے، کوئی محض آنکھوں کو حرکت دے کر ہی فریضہ نماز ادا کر رہا ہے اور کوئی دل میں نماز کے کلمات پڑھ رہا ہے تو کیا اس نظارہ کے بعد تم دنیا کی کسی قوم کے سامنے بھی اپنا سر اونچا کر سکتے ہو کیا تمہارا سینہ اس نظارہ کو دیکھ کر فخر سے تن سکتا ہے یا کیا دشمن کے سامنے تم اپنی گردن اور اونچی کر سکتے ہو؟ ہر شخص تمہاری طرف حقارت کی نگاہ سے دیکھے گا اور کہے گا تمہاری قوم مریضوں کی قوم ہے، تمہاری قوم ” قدم در گور لوگوں کی قوم ہے یہ آج