انوارالعلوم (جلد 18) — Page 473
انوار العلوم جلد ۱۸ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی مری یا کل اس نے بھلا دنیا میں کیا تغیر پیدا کرنا ہے۔اب دیکھ لو وہی چیز جو استثنائی صورت میں ہمارے لئے عزت کا موجب ہو سکتی ہے عام حالات میں ہمارے لئے نہایت ہی ذلت اور شرمندگی کا موجب بن جائے گی اور ہم آنکھیں اُٹھا کر چلنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔پس یہ صحیح ہے کہ عَرَفْتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِم ہم نے اپنے رب کو فسخ عزائم سے ہی دیکھا ہے ،لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہمارے فتح عزائم کی اب اتنی کثرت ہوگئی ہے کہ حضرت علی نے تو کہا تھا عَرَفُتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِم لیکن ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نَسِيْتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ میں نے اپنے عزائم کو تو ڑ تو ڑ کر اپنے خدا کو بالکل بھلا دیا ہے اگر میرے اندر اپنے عزم کو پورا کرنے کی کوئی بھی نیت ہوتی تو میں اپنے ارادوں کو اتنا نہ تو ڑتا بلکہ خدا تعالیٰ کے خوف اور اس کے تقویٰ سے متاثر ہو کر کچھ نہ کچھ اپنے عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کرتا۔میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص اپنا پورا زور لگا کر کسی بات پر عمل کرتا ہے تب بے شک اُس کا حق ہوتا ہے کہ وہ کہے مجبوری اور پابندی فلاں کام میں روک بن گئی ہے لیکن ابھی تک ایسا کام کرتے ہم نے خدام کو نہیں دیکھا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اس کے بعد واقعہ میں ان کے مزید کام کرنے میں کوئی مجبوری اور معذوری حائل تھی۔میں سمجھتا ہوں یہاں کوئی ایک شخص بھی کھڑے ہو کر نہیں کہہ سکتا کہ اس نے ایک ہفتہ بھی خدام کو ایسے رنگ میں کام کرتے دیکھا ہے کہ اس کے بعد ان سے کسی اور کام کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔اس وقت تمہارے ماں باپ یہاں بیٹھے ہیں، تمہارے بڑے بھائی یہاں بیٹھے ہیں ، تمہارے بزرگ اور رشتہ دار یہاں بیٹھے ہیں کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں کو اتنا کام کرتے دیکھا ہے کہ اس سے زیادہ کام کرنے کی ان سے امید کرنا حماقت اور نادانی ہے۔اگر ایسا ہو تو پھر بے شک فسخ عزائم بھی تمہارے لئے ایک زیور بن جائے گا جو تمہارے لئے زینت اور حضرت علیؓ کے قول کے مطابق خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایک ذریعہ ہو گا۔لیکن اگر تم نے وہ جدو جہد نہیں کی جو تمہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر تم نے اتنی جدو جہد بھی نہیں کی جتنی جدوجہد یورپین اقوام اپنے دُنیوی مقاصد کے لئے کر رہی ہیں تو تمہارا فسخ عزائم کو پابندی اور مجبوری کا نتیجہ سمجھنا اللہ تعالیٰ کے قانون کی ہتک ہے۔لوگ کہتے ہیں اس ملک میں ملیر یا بہت ہے اور اسی