انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 466

انوار العلوم جلد ۱۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے لئے ہمیشہ ایسا کرتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کے اس عمل کی نقل ہی کر لوں ، چنانچہ جہاں صلى الله رسول کریم ﷺ نے پیشاب کیا تھا وہاں تھوڑا بہت کھڑا ہو کر واپس آ جاتا ہوں۔یہ وہ محبت تھی صلى الله و جس نے صحابہ کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا اور یہی وہ چیز ہے جو ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیلانے اور لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔یہ خیال بھی کبھی دل میں نہیں لانا چاہئے کہ یہ ذمہ داری کسی اور کی ہے۔جب تم یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لو گے تو دنیا بھر میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔تم جہاں جاؤ گے تمہارے رستہ سے رُکاوٹیں خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی۔مثل مشہور ہے ہر فرعونے را موسی۔جس طرح ہر موسیٰ کا مقابلہ ہر فرعون نہیں کر سکتا اسی طرح ہر محمد ﷺ کا مقابلہ بھی ہر ابو جہل نہیں کر سکتا تم اگر چھوٹے محمد ( ﷺ ) بن جاؤ گے تو کتنے بھی ابو جہل تمہارے مقابلہ کے لئے اُٹھیں مارے جائیں گے۔پس آج آپ سب لوگ عہد کریں کہ اسی دہلی میں جہاں سے پہلے پہل اسلام پھیلا اور دور دراز تک پہنچ گیا تھا آپ بھی اپنی تبلیغی کوششوں کو تیز کر دیں گے اس وقت تمام مسلمان کہلانے والے تبلیغ سے بالکل غافل پڑے ہیں اگر تبلیغ جاری رہتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اسلام پر زوال آ سکتا۔پہلی پانچ صدیوں میں مسلمانوں نے ہندوستان میں تبلیغ پر زور دیا مگر پچھلی پانچ صدیوں والے ست ہو گئے مگر اب خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ پھر تمام دنیا اسلام کی آغوش میں آجائے۔ہندوستان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مولد ہے اس لئے بھی اور اس لئے بھی کہ دہلی ہندوستان کا صدر مقام ہے دہلی والوں پر خاص کر بہت زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہندوستان میں اس وقت چالیس کروڑ آ دمی بستے ہیں ان میں سے دس کروڑ مسلمان ہیں گویا ۱٫۴ حصہ کی آبادی کو حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اور قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے بزرگان نے مسلمان کیا۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ اس کام کو سبنھال لو۔تین چوتھائی کام تمہارے حصہ میں آیا ہے اس کا پورا کرنا تمہارے ذمہ ہے خدا تعالیٰ مجھ کو اور تم کو اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق بخشے۔وَاخِرُدَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الفضل ۱۶/ نومبر ۱۹۴۶ ء )