انوارالعلوم (جلد 18) — Page 467
انوار العلوم جلد ۱۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۶۰۰ء میں لندن کے چند سوداگروں نے پارلیمنٹ میں مشرقی ممالک کے ساتھ تجارتی اجارہ داری کا منشور حاصل کیا۔ابتداء میں گرم مصالحے کے جزیروں پر سے سورت قبضہ کرنا چاہا مگر ناکامی ہوئی۔۱۶۰۸ء میں کیپٹن ہاکنزے نے جہانگیر سے سو ( ہندوستان ) میں تجارتی کوٹھی بنانے کی اجازت لی۔۱۶۱۵ء میں سرٹامس رو نے کمپنی کے لئے تجارتی حقوق حاصل کئے۔۱۶۵۰ء میں بنگال میں بلا محصول تجارت اور تجارتی کوٹھیاں کھولنے کی اجازت ملی۔۱۶۶۸ء میں بمبئی کا جزیرہ دس پونڈ سالانہ کرائے پر کمپنی کو مل گیا۔۱۹۹۰ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم نامی قلعہ بنوایا۔۱۶۹۸ء میں انگلستان کے تاجروں نے نئی ایسٹ انڈیا کمپنی بنالی لیکن ۱۷۰۸ ء میں دونوں کمپنیاں متحد ہو گئیں۔اسی متحدہ کمپنی نے ہندوستان میں انگریزی حکومت کی بنیاد ڈالی۔۱۸۵۸ء میں کمپنی کا راج ختم ہو گیا اور ہندوستان کی حکومت براہ راست ملکہ وکٹوریہ نے سنبھالی۔الانعام: ۱۶۳ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ا صفحہ ۱۷۵، ۱۷۶ مطبوعہ لا ہور ۱۹۸۷ء) تذکرہ صفحه ۵۷۴۔ایڈیشن چهارم آل عمران: ۳۲ آل عمران: ۵۶ کے بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى ويوم حنين۔۔۔۔۔الخ) تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۵۱ مطبوعہ لاہور ۱۸۹۲ء طه: ۳۰ تفسير فتح البيان الجزء الرابع صفحه ۱۴۷ مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ بخارى كتاب الجهاد باب دعاء النبي الله الله الى الاسلام۔۔۔۔۔الى الاسلام۔۔۔۔(الخ) ر