انوارالعلوم (جلد 18) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بننے کی کوشش کریں گے۔جب تک تمام مؤمن چھوٹے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نہیں بن جاتے ان کی زندگی دین کے لئے کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی۔چھوٹا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بننے کے یہ معنی ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اپنے متعلق یہ سمجھ لے کہ ساری دنیا کو تبلیغ اسلام پہنچانے کی ذمہ داری صرف اور صرف مجھ پر عائد ہوتی ہے اور ساری دنیا کو ہدایت دینا مجھ پر فرض ہے۔میری عمر انیس سال کی تھی اور میری تعلیم بھی بہت کم تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اُس وقت میں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات بے وقت ہوئی ہے ابھی تو فلاں فلاں پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی اس سے کمزور ایمان والے لوگوں کو ٹھوکر لگنے کا اندیشہ ہے اور کئی لوگوں کے ایمان خراب ہو جائیں گے۔کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی مخالف فلاں فلاں پیشگوئی کے متعلق اعتراض کرے گا تو ہم اسے کیا جواب دے سکیں گے۔ان سب باتوں کو سن کر میں نے اندازہ لگایا کہ جماعت میں سے بعض کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں پس میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش کے سرہانے جا کھڑا ہوا اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے میں نے عہد کیا کہ اے خدا! اگر ساری جماعت بھی احمدیت سے پھر جائے گی تو تیرے ہی فضل سے اور تیری ہی مدد سے میں اکیلا اس تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤں گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بروز کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ تو نے ہمیں عطا کی ہے۔یہ عہد کیا تھا یہ عہد میرا نہ تھا بلکہ یہ عہد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کیونکہ ساری دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہے اور میں بھی اُس وقت محمدؐ کے تصرف میں تھا۔پس جب تک تم میں سے ہر احمدی چھوٹا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں بن جا تا تم کامیابی کا منہ ہر گز نہیں دیکھ سکتے ہر شخص یہ عہد کرے کہ میں چھوٹا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بننے کی کوشش کروں گا۔مجھے تعجب آتا ہے کہ جب لوگ دوسرے کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں فلاں یہ کام نہیں کرتا ہم کیوں کریں لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے کپڑوں میں آگ لگ جائے اور اس کا بدن جلنے لگ جائے تو دیکھنے والے لوگ اسے دیکھ کر جلنے لگ جائیں گے اس لئے کہ یہ جو جل رہا ہے ہم بھی جلتے ہیں مگر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ لوگ دوسروں کی اچھی باتیں تو لے لیتے ہیں مگر بُری باتیں لینا پسند نہیں کرتے۔کتنا ہی