انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 456

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۵۶ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے بد قسمت وہ شخص ہے جو یہ کہے کہ فلاں چونکہ دین کی خدمت نہیں کر رہا اس لئے میں بھی نہیں کرتا اس لحاظ سے تو اسے چاہئے کہ جب وہ کسی دوسرے کے مکان میں آگ لگتی دیکھے تو گھر آ کر اپنے مکان کو جلا ڈالے یا وہ کسی دوسرے کو کنویں میں گرتا دیکھے تو اس کے پیچھے ہی وہ اپنے آپ کو کنویں میں گرا لے مگر وہ کبھی ایسا کرنے کو تیار نہیں ہوگا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مکان کو جلا ڈالنے سے نقصان ہوگا اور کنویں میں گرنے سے جان جانے کا اندیشہ ہے۔کاش! ایسا آدمی سمجھ سکتا کہ جس شخص کو وہ دین کے کاموں میں مُردہ دیکھ رہا ہے اُس کی نقل کرنے سے وہ خود بھی مردہ ہو جائے گا۔پس اگر تم لوگوں میں ایمان ہے تو یہ سمجھ لو کہ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دنیا میں تمہارے سوا کوئی بھی قائم مقام نہیں ، اگر تم چھوٹے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بن جاؤ تو عمر وزید اور بکر کا تمہیں خیال بھی نہیں آ سکتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور میں کیا کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ صرف تو دین اسلام کے پھیلانے کا ذمہ وار ہے یہ نہیں فرمایا کہ باقی مسلمان بھی ذمہ دار ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ اسلام کا پھیلا نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہے۔پس جو شخص اپنے آپ کو محمد رسول اللہ کا عاشق سمجھتا ہے اُس کے ذمہ بھی یہ کام ہے ہاں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ نہیں کرتا اور اپنے آپ کو غیر سمجھتا ہے اُس پر کوئی دعوی نہ ہمیں ہے نہ اسلام کو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ إِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ل کہ اے محمد ! ( ﷺ ) ان لوگوں پر یہ بات واضح کر دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو تم محمد (ﷺ) کے متبع بن جاؤ یعنی چھوٹے محمد ( ﷺ ) بن جاؤ جب ایسا کرو گے تو سمجھ لو کہ تم کامیاب ہو گئے۔پس اصل ایمان یہ ہے کہ ہر شخص یہی سمجھے کہ میں ذمہ دار ہوں اور اگر وہ اپنے آپ کو ذمہ دار نہیں سمجھتا تو وہ بے ایمان ہے اور وہ مؤمن کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا۔کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ محمد ( ﷺ ) جہاد سے انکار کر دیا کرتے تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین کی خدمت سے انکار کر دیا کرتے تھے ، کیا تم کہہ سکتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام نہیں کیا کرتے تھے اس عذر پر کہ عقبہ یا شیبہ یہ کام کیوں نہیں کرتے۔عتبہ اور شیبہ نے تو خدا تعالیٰ کی باتیں نہیں سنی تھیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی باتیں سنی تھیں اس لئے ان